کوئٹہ خودکش دھماکے کے بعد شرمناک انکشاف، میت منتقلی کیلئے رقم وصولی
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
کوئٹہ خودکش دھماکے میں شہید ہونے والوں کے ورثا سے میتوں کی منتقلی کے لیے رقم لینے کا افسوسناک انکشاف سامنے آیا ہے۔
شہید محمد نور کے بیٹے نے بتایا کہ دھماکے میں والد اور بھائی کے جاں بحق ہونے کے بعد فلاحی ادارے کے اہلکاروں نے میتوں کی حوالگی کے لیے 35 ہزار روپے مانگے، جبکہ 20 ہزار روپے دینے کے بعد لاشیں وصول کی گئیں۔
میتوں کے پیسے لینے والے اہلکار محمد عارف نے وضاحت دی کہ حکومت کی جانب سے صرف پانچ تابوت فراہم کیے گئے تھے، باقی تابوت خود خریدنے پڑے، اس لیے ورثا سے وہی رقم وصول کی گئی جو تابوت اور کفن پر خرچ ہوئی۔
ریسکیو اہلکار کا کہنا تھا کہ رقم ذاتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ انتظامی اخراجات پورے کرنے کے لیے لی گئی۔ واضح رہے کہ 30 ستمبر کو پشین اسٹاپ کوئٹہ میں ہونے والے خودکش دھماکے میں 11 افراد شہید ہوئے تھے، جن میں مشرقی بائی پاس کے رہائشی نور محمد اور ان کا 22 سالہ بیٹا بھی شامل تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔