ٹرمپ کا شکاگو کے میئر کی گرفتاری مطالبہ، نیشنل گارڈز تعینات
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شکاگو کے میئر اور ریاست الی نوائے کے گورنر کی گرفتاری کا مطالبہ کر دیا، جبکہ ان کی انتظامیہ شکاگو میں فوجی دستے تعینات کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ دونوں رہنما ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کے سخت ناقدین میں شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ کا الزام ”آئس افسران کو تحفظ فراہم نہیں کیا گیا“ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ٹرمپ نے لکھا ”شکاگو کے میئر کو آئس افسران کے تحفظ میں ناکامی پر جیل جانا چاہیے! گورنر پرٹزکر بھی!“
یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب شکاگو کے میئر برینڈن جانسن نے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے شہر کو ”آئس فری زون“ قرار دیا، جس کے تحت وفاقی امیگریشن اہلکاروں کو شہر کی سرکاری املاک استعمال کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
میئر جانسن نے نے اپنے رد عمل میں کہا کہ ”یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ نے ایک سیاہ فام شخص کو ناجائز طور پر گرفتار کرانے کی کوشش کی ہو۔ میں کہیں نہیں جا رہا۔“
جبکہ گورنر جے بی پرٹزکر، جو 2028 کے ممکنہ صدارتی امیدوار سمجھے جا رہے ہیں، نے کہا “ٹرمپ اب ان منتخب نمائندوں کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں جو اس کی طاقت کو چیلنج کر رہے ہیں۔ آمریت کی طرف اور کیا باقی رہ گیا ہے؟
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کے حکم پر نیشنل گارڈز شکاگو پہنچ گئے، ٹیکساس سے سیکڑوں نیشنل گارڈز شکاگو کے فوجی مرکز پہنچا دیئے گئے۔
امیگریشن پالیسیوں کے خلاف شکاگو میں کئی روز سے مظاہرے جاری ہیں، شکاگو میں نیشنل گارڈز کی تعیناتی پر شدید سیاسی ردعمل سامنے آیا ہے۔
گورنر الینوائے نے کہا کہ نیشنل گارڈز کی تعیناتی غیر قانونی اور خطرناک ہے، میئر شکاگو کا کہنا ہے کہ نیشنل گارڈزکو قانون نافذ کرنے کا اختیار نہیں، نیشنل گارڈز کا کام صرف وفاقی عمارتوں اور اہلکاروں کی حفاظت ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق شکاگو میں مظاہرین اور وفاقی فورسز کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں پر امریکا بھر میں تنقید جاری ہے، نیشنل گارڈز کی تعیناتی پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی سوالات اٹھا دیئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شکاگو کے میئر نیشنل گارڈز شکاگو میں
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔