عمران خان نے اورکزئی میں فوجی جوانوں کی شہادت پر گنڈاپور کو ہٹانے کا فیصلہ کیا، سلمان راجا
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
سلمان راجا نے مزید کہا کہ آج عمران خان نے کے پی میں فوج پر بڑے حملے پر دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ علی امین گنڈاپور اس صورتحال کے ذمہ دار ہیں اور وہ سمجھتے ہیں علی امین کو مزید اس عہدے پر نہیں رہنا چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ سیکریٹری جنرل تحریک انصاف سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ عمران خان نے کے پی میں فوج پر آج بڑے حملے پر دکھ کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ علی امین گنڈاپور اس صورتحال کے ذمہ دار ہیں انہیں وزیراعلیٰ کے عہدے پر مزید نہیں رہنا چاہیے۔ اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے وزیراعلیٰ کے پی کو عہدے سے ہٹانے اور نوجوان ایم پی اے سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ نامزد کرنے کا حکم دیا۔ سلمان راجا نے مزید کہا کہ آج عمران خان نے کے پی میں فوج پر بڑے حملے پر دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ علی امین گنڈاپور اس صورتحال کے ذمہ دار ہیں اور وہ سمجھتے ہیں علی امین کو مزید اس عہدے پر نہیں رہنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے مطابق کے پی میں صورتحال اس قدر خراب ہوچکی ہے کہ قابو سے باہر ہے اور علی امین گںڈاپور کو عہدے سے ہٹادینا بہتر ہے۔ سلمان راجا کے مطابق عمران خان نے کہا کہ میرا سوا دوسال سے یہی اصرار ہے کہ وفاقی حکومت کا جو طریقہ ہے اور انہوں نے جو پالیسی بنائی ہوئی ہے وہ ایک دم غلط ہے، کے پی حکومت خود کو اس پالیسی سے دور کرے اور یہ پالیسی جنگ و جدل کی پالیسی ہے اس تمام عرصے میں ہم نے بار بار کہا کہ تین اسٹیک ہولڈر کو شامل نہیں کیا جائے خیبر پختون خوا سمیت پورے پاکستان میں امن نہیں ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے پی میں علی امین کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔