سلمان راجا نے مزید کہا کہ آج عمران خان نے کے پی میں فوج پر بڑے حملے پر دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ علی امین گنڈاپور اس صورتحال کے ذمہ دار ہیں اور وہ سمجھتے ہیں علی امین کو مزید اس عہدے پر نہیں رہنا چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ سیکریٹری جنرل تحریک انصاف سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ عمران خان نے کے پی میں فوج پر آج بڑے حملے پر دکھ کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ علی امین گنڈاپور اس صورتحال کے ذمہ دار ہیں انہیں وزیراعلیٰ کے عہدے پر مزید نہیں رہنا چاہیے۔ اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے وزیراعلیٰ کے پی کو عہدے سے ہٹانے اور نوجوان ایم پی اے سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ نامزد کرنے کا حکم دیا۔ سلمان راجا نے مزید کہا کہ آج عمران خان نے کے پی میں فوج پر بڑے حملے پر دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ علی امین گنڈاپور اس صورتحال کے ذمہ دار ہیں اور وہ سمجھتے ہیں علی امین کو مزید اس عہدے پر نہیں رہنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کے مطابق کے پی میں صورتحال اس قدر خراب ہوچکی ہے کہ قابو سے باہر ہے اور علی امین گںڈاپور کو عہدے سے ہٹادینا بہتر ہے۔ سلمان راجا کے مطابق عمران خان نے کہا کہ میرا سوا دوسال سے یہی اصرار ہے کہ وفاقی حکومت کا جو طریقہ ہے اور انہوں نے جو پالیسی بنائی ہوئی ہے وہ ایک دم غلط ہے، کے پی حکومت خود کو اس پالیسی سے دور کرے اور یہ پالیسی جنگ و جدل کی پالیسی ہے اس تمام عرصے میں ہم نے بار بار کہا کہ تین اسٹیک ہولڈر کو شامل نہیں کیا جائے خیبر پختون خوا سمیت پورے پاکستان میں امن نہیں ہوگا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے پی میں علی امین کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان