بدین،دھان کی قیمتوں میں کمی کیخلاف آبادگاروں کادھرنا
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251009-11-8
بدین(نمائندہ جسارت)بدین ضلع میں دھان کے کارخانہ داروں اور تاجروں کی جانب سے دھان کی قیمتوں میں کمی کے خلاف سیکڑوں آبادگاروں نے بدین میں مین تھرکول شاہراہ پر دھرنا، کراچی تھرپارکر حیدرآباد ٹنڈوباگو روٹس پر چلنے والی ٹریفک معطل ۔دھان کی قیمتوں میں کمی کے خلاف سراپا احتجاج کسانوں کی اپیل پر آبادگاروں کے علاوہ دیگر سیاسی سماجی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں نے دھان کے کارخانہ داروں اور تاجروں کے خلاف مین تھرکول کراچی شاہراہ پر دھرنا دے کر احتجاج کیا ، دھرنے کے کراچی تھرپارکر حیدرآباد ٹنڈو باگو ٹھٹھہ سجاول اور دیگر روٹس پر چلنے والی ٹریفک معطل ہو گی ، دھرنے کے اطراف چھوٹی بڑی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ، اس موقع پر کسان بورڈ ضلع بدین کے صدر اللہ بچایو ہالیپوٹہ جماعت اسلامی ضلع بدین کے جنرل سیکرٹری عبدالکریم بلیدی جمعیت علما اسلام کے ضلعی امیر عبدالواحد فاروقی ، تحریکِ انصاف کے ضلعی صدر عزیز اللہ ڈیرو ، ایس ٹی پی ضلع صدر شاہنواز سیال، قومی عوامی تحریک کے ضلعی نائب صدر عبداللہ چانڈیو، سانول گوپانگ ، جمعیت علما اسلام ضلع بدین کے ترجمان رفعت نود چودھری اور دیگر آبادگار رہنماؤں نے دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدین میں دھان کے کارخانہ داروں اور تاجروں نے ملی بھگت سے دھان کی قیمت 32 سو روپے فی من سے کم کر کے فی من 2300 روپے مقرر کر دی ہے، اور 43 کلو کو ایک من تولنا شروع کر دیا ہے، جو بدین کے ہزاروں آبادگاروں کے ساتھ معاشی قتل ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند ہفتے پہلے دھان فی من 3400 روپے میں خریدی جا رہی تھی، مگر جیسے ہی دھان کی فصل مارکیٹ میں آنا شروع ہوئی، تاجروں نے گٹھ جوڑ کر کے قیمت خطرناک حد تک گھٹا دی اور 43 کلو کے من کے حساب سے 2300 روپے میں خریداری شروع کر دی، جو کسانوں کے ساتھ سراسر ظلم ہے، کیونکہ اس قیمت پر ان کا خرچ بھی پورا نہیں ہوتا۔ رہنماؤں نے کہا کہ اس ظلم کے خلاف نہ ایم این اے، نہ ایم پی اے اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ کوئی کارروائی کر رہی ہے جو انتہائی افسوسناک عمل ہے۔ اس موقع پر احتجاجی مظاہرین نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، وزیراعلیٰ سندھ، چیف سیکرٹری سندھ کمشنر حیدرآباد اور ڈپٹی کمشنر بدین یاسر بھٹی سے مطالبہ کیا کہ بدین میں دھان کے آبادگاروں کے ساتھ تاجروں کی زیادتیوں کا نوٹس لیا جائے اور دھان کی سرکاری قیمت کم از کم فی من 3400 روپے مقرر کی جائے تاکہ آبادگار بڑے نقصان سے بچ سکیں۔ ڈی سی بدین یاسر بھٹی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر بدین راجیش دلپت نے دھرنے کے مقام پر پہنچ کر دھرنے کے شرکاء سے مذاکرات کر کے ان کے مطالبات عالیٰ حکومتی سطح پر پہنچے اور حل کی یقین دہانی کرائی جس کے بعد احتجاجی شرکا نے احتجاج ختم کر دیا۔احتجاج کے خاتمے پر معطل ٹریفک بھی بحال ہو گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دھان کی قیمت ا بادگاروں دھرنے کے دھان کے کے خلاف بدین کے
پڑھیں:
بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاریوں کے ساتھ ہی قابل تجدید توانائی کے شعبے، بالخصوص سولر انڈسٹری کی نظریں حکومت کے ممکنہ ٹیکس اقدامات پر مرکوز ہیں۔
ملک میں بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں اور توانائی کے بحران کے باعث سولر توانائی کی جانب رجحان تیزی سے بڑھا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سولر پینلز یا متعلقہ آلات پر نئے ٹیکس عائد کرتی ہے تو اس سے نہ صرف سولر سسٹمز کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ صنعت کی ترقی اور صارفین کی دلچسپی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
مزید پڑھیں: حکومت شمسی توانائی کے فروغ کے لیے پرعزم، عوام کو سولر سسٹمز پر ریلیف برقرار
بجٹ میں سولر پنیلز پر ٹیکسز میں اضافے کے حوالے سے مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں۔
وی نیوز نے سولر انڈسٹری کے ماہرین سے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ سولر پینلز پر ٹیکس کتنے فیصد تک بڑھایا جا سکتا ہے، اور اس سے سولر پینلز کی قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا؟
ٹیکس کی شرح بڑھی تو قیمتوں میں اضافہ ہو جائےگا، شرجیل احمداس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سولر مارکیٹ کے ماہر شرجیل احمد سلہری کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں مختلف خبریں گردش کررہی ہیں کہ آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کی جا سکتی ہے۔ یعنی 8 فیصد فیصد اضافہ متوقع ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو سولر پینلز اور سولر سسٹمز کی قیمتوں میں کم از کم 10 سے 12 فیصد تک اضافہ متوقع ہے، جس سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑےگا اور قابل تجدید توانائی کے فروغ کی رفتار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
شرجیل احمد سلہری نے کہاکہ پاکستان کے برعکس دنیا کے بیشتر وہ ممالک جو موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہیں، وہاں گرین انرجی کی مصنوعات اور منصوبوں پر ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا۔
ان کے مطابق ایسے ممالک سولر اور دیگر متبادل توانائی کے ذرائع کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیکس چھوٹ اور مختلف مراعات فراہم کرتے ہیں تاکہ صاف اور سستی توانائی کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
’سولر پلیٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے‘انجینیئر محمد حمزہ رفیع کے مطابق آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو سولر پلیٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
محمد حمزہ رفیع کے مطابق اگر ایسا ہو جاتا ہے تو سولر پینلز کی قیمت فی واٹ 8 سے 15 روپے تک بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے سولر سسٹمز کی مجموعی لاگت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
انہوں نے مزید کہاکہ قیمتوں میں اضافے سے سولر توانائی کی جانب منتقل ہونے والے نئے صارفین کی حوصلہ شکنی ہوگی، کیونکہ ملک میں پہلے ہی سولر پینلز سے منسلک حکومتی پالیسیوں نے عوام کے لیے سولر پینلز کی تنصیب کو ایک مشکل فیصلہ بنا دیا ہے۔
’ٹیکس بڑھنے کی خبروں میں سولر انڈسٹری میں تشویش‘پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینیئر وائس چیئرمین حسنات خان کے مطابق حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر ٹیکس میں ممکنہ اضافے کی تجویز پر انڈسٹری میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے سولر پینلز پر موجودہ 10 فیصد ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد کرنے کے دباؤ کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں، تاہم اس حوالے سے انڈسٹری کی کوشش ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کے اس شعبے پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔
حسنات خان کے مطابق اگر ٹیکس میں اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر سولر سسٹمز کی قیمتوں پر پڑے گا اور صارفین کے لیے صاف توانائی حاصل کرنا مزید مہنگا ہو جائے گا۔
مزید پڑھیں: سولر، ونڈ اور ہائیڈرو پاور کے ذریعے توانائی کے حصول پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں توانائی کا بحران اور بجلی کی بلند قیمتیں پہلے ہی بڑا مسئلہ ہیں، وہاں سولر انرجی کو مزید مہنگا کرنا توانائی کے فروغ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈسٹری حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ سولر انرجی کو ریلیف دیا جائے ورنہ کم از کم ٹیکس کو نہ بڑھایا جائے تاکہ عوام سستی اور ماحول دوست توانائی سے فائدہ اٹھا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ٹیکس میں اضافہ سولر انڈسٹری وفاقی بجٹ وی نیوز