پنجاب بھر میں 10 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
لاہور (نیوز ڈیسک) پنجاب میں دس روز کیلئے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ، جس کے تحت اسلحہ کی نمائش، عوامی اجتماعات اور لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی عائد ہوگی۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر میں دس روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اسلحہ کی نمائش، عوامی اجتماعات اور لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر مکمل پابندی ہو گی۔ تاہم نماز، شادی، جنازہ، دفاتر اور عدالتوں پر اس پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔
نوٹیفکیشن میں کہنا تھا کہ چار یا چار سے زائد افراد کے عوامی مقامات پر جمع ہونے پر پابندی عائد ہوگی۔
دوسری جانب صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت تمام اضلاع میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور آئی جی پنجاب ڈاکٹرعثمان انور نے لاہور سمیت صوبہ بھر کی سیکیورٹی بڑھانے کی ہدایت کی۔
آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ مساجد، امام بارگاہوں، مزارات اہم مقامات کی سیکیورٹی یقینی بنائیں، معاشرے کی اصلاح، امن و انصاف کی فراہمی میں ممبرومحراب کا اہم کردارہے۔
انھوں نے ہدایت کی ڈی پی اوز سمیت سینئرپولیس افسران جمعتہ المبارک کےموقع پرعلاقائی مساجد کادورہ کریں اور پولیس افسران نماز جمعہ کے بعد مساجد میں شہریوں کے مسائل سنیں۔
واضح رہے کہ آج اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے، جو سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر غیر معینہ مدت تک معطل رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نےسرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس نے کہاکہ پولیس اور ایف آئی اے کو درخواست مطلوب نہیں، عدالت نے کہاکہ جن کو چاہئے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہئے پھر اب تک نام کیو ں نہیں نکالا۔
ایف آئی اے نے کہاکہ یار محمد رند کا نام ای سی ایل نہیں ،صرف پی این آئی ایل میں ہے،سابق وفاقی وزیر کا نام پی این آئی ایل میں 28مارچ کو ڈالا گیا، پی این آئی ایل میں نام ایک ماہ رکھاجاتا، پھرتوسیع لینا ہوتی ہے۔
ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
عدالت نے کہاکہ زیادہ سے زیادہ 60روز رکھ سکتےہیں، اب تو جولائی ہے، کتنے ماہ ہو گئے؟کس قانون کے تحت نام اب تک برقرار رکھا گیا؟ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آ رہے ہیں ، ہم کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں۔
مزید :