آزاد فلسطینی ریاست ہی امن کا واحد راستہ ہے، پیوٹن کا دوٹوک اعلان
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
ماسکو / دوشنبے(انٹرنیشنل ڈیسک) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں جنگ بندی اور امن منصوبے کی بھرپور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین میں ایک آزاد ریاست کا قیام خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے۔
دوشنبے میں منعقدہ روس-وسطی ایشیا سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ “صدر ٹرمپ نے جو تجاویز پیش کی ہیں، روس نے انہیں فوری طور پر حمایت دی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ امن منصوبہ عملی جامہ پہن لے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ عرب اور اسلامی دنیا میں بھی مثبت انداز میں قبول کیا گیا ہے، اور اس پر عمل درآمد خطے میں دیرپا استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔
پیوٹن نے واضح کیا کہ روس ہمیشہ سے مشرقِ وسطیٰ کے مسائل کے سیاسی اور سفارتی حل پر یقین رکھتا ہے اور ماسکو ہر اس کوشش کی حمایت کرے گا جو خون ریزی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے ہو۔
انہوں نے کہا کہ “مشرقِ وسطیٰ میں طویل مدتی استحکام کے لیے سب سے ضروری شرط ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔”
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 29 ستمبر کو غزہ کے لیے 20 نکاتی جنگ بندی منصوبہ پیش کیا تھا، جس کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے تقریباً 2 ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، مستقل جنگ بندی ہوگی اور اسرائیلی فوج مرحلہ وار غزہ سے انخلا کرے گی۔
منصوبے کے دوسرے مرحلے میں غزہ میں نئی حکومتی ساخت قائم کرنے، حماس کو غیر مسلح کرنے، عرب و اسلامی ممالک کی مشترکہ سیکیورٹی فورس بنانے، اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے مالی امداد فراہم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔
عرب و اسلامی ممالک نے مجموعی طور پر اس منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم کچھ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس کے کئی پہلوؤں پر مزید گفتگو اور مذاکرات کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔