data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وشاکھاپٹنم: ویمنز ورلڈ کپ میچ میں جنوبی افریقہ نے بنگلہ دیش کو سنسی خیز مقابلے میں تین وکٹوں سے شکست دے دی۔

بھارت کے شہر وشاکھا پٹنم میں کھیلے گئے میچ میں 233 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پروٹیز ویمنز ٹیم کے 5 کھلاڑی 78 رنز پر آؤٹ ہو گئے تھے۔اس مشکل صورتحال میں نچلے نمبروں پر آنے والی بیٹرز نے وہی حوصلہ دکھایا جس کی بدولت انہوں نے پچھلے میچ میں بھارت کے خلاف کامیابی ملی تھی۔

ماریزان کیپ اور کلوئی ٹرائیون کے درمیان چھٹی وکٹ کے لیے 85 رنز کی ساجھے داری قائم ہوئی، جس نے ٹیم کو سہارا دیا اور ہدف کے تعاقب کو نئی زندگی دی، جنہوں نے بالترتیب 56 رنز اور 62 رنز اسکور کیے۔دونوں کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے کے بعد ایک بار پھر بنگلہ دیش کو میچ میں واپس آنے کا موقع ملا، اس وقت نادین ڈی کلرک کریز پر آئیں اور ٹیم کو جیت تک پہنچا دیا۔انہوں نے 29 گیندوں پر ناقابلِ شکست 37 رنز بنا کر ٹیم کو تین گیندیں قبل کامیابی دلائی۔

کلوئی ٹرائیون کو پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا، انہوں نے میچ کے بعد کہا کہ ’میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی، یہ لمحہ بہت اعصاب شکن تھا لیکن خوشی ہے کہ ہم یہ جیت لے گئے، ہم نے صرف پرسکون رہنے اور غلط گیندوں کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا تھا، ہمیں معلوم تھا کہ آخری 10 اوورز میں 80 رنز بنانا ممکن ہے۔

جب ٹرائیون ریتو مونی کے براہِ راست تھرو سے رن آؤٹ ہوئیں، جنوبی افریقہ کو اب بھی 31 گیندوں پر 35 رنز درکار تھے اور تین وکٹیں باقی تھیں، ڈی کلرک کا 26 رنز پر ایک موقع ملا، جس کی بنگلہ دیش کو بھاری قیمت چکانی پڑی۔آخری اوور میں آٹھ رنز درکار تھے، تو انہوں نے نہیدہ اختر کی پہلی گیند پر چار رنز حاصل کیے، جبکہ تیسری گیند پر چھکا لگا کر میچ ختم کر دیا۔

جنوبی افریقہ ویمنز ٹیم، جو ٹورنامنٹ کے آغاز میں انگلینڈ کے خلاف صرف 69 رنز پر ڈھیر ہو کر 10 وکٹوں سے ہار گئی تھی، اب مسلسل تین فتوحات کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل میں تیسرے نمبر پر پہنچ گئی ہے، اور سیمی فائنل کی امیدیں روشن ہو گئی ہیں۔

اس سے قبل بنگلادیش نے سست آغاز کے باوجود 50 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 232 رنز بنائے، جس میں شورنا اختر51 رنز ناٹ آؤٹ بنا کر نمایاں رہیں۔

35 گیندوں پر بننے والی یہ اننگز اب تک کے ٹورنامنٹ کی تیز ترین نصف سنچری تھی، جس میں تین چوکے اور تین چھکے شامل تھے۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش کو انہوں نے میچ میں

پڑھیں:

پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز

لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ  کے وژنری  اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ  نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز  نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔  ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز  کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔  رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • ویمنز ٹی20 رینکنگ؛ پاکستانی اسپنر سعدیہ اقبال بڑے اعزاز سے محروم
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف