پاکستان کا آئی ایم ایف سے سٹاف لیول معاہدہ طے پاگیا، 1.2 ارب ڈالرز قرض ملے گا
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 اکتوبر2025ء ) پاکستان کا آئی ایم ایف سے سٹاف لیول معاہدہ طے پاگیا، جس کے تحت عالمی مالیاتی ادارے سے حکومت کو 1.2 ارب ڈالرز قرض ملے گا۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کا عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے ساتھ درمیان قرض پروگرام کے جائزے پر معاہدہ طے پا چکا ہے جس کے تحت پاکستان کو 1.
(جاری ہے)
عالمی مالیاتی ادارے نے اعلامیے میں کہا ہے کہ پاکستان میں افراطِ زر کو 5 سے 7 فیصد کے دائرے میں رکھنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم بنانے کیلئے اقدامات جاری ہیں، سٹیٹ بینک سخت مالیاتی پالیسی برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، پاکستان کو سرکلر ڈیبٹ میں کمی، بجلی کے نقصانات کم کرنے اور تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے اہداف حاصل کرنا ہوں گے۔ آئی ایم ایف کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ زرعی شعبے میں حکومتی مداخلت کم کرنے، پیداوار بڑھانے اور عالمی تجارت کے فروغ کے لیے نئی ٹیرف پالیسی اپنانا ہوگی، ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات تیز کرنے، آبی وسائل کے بہتر استعمال اور توانائی اصلاحات کے تسلسل پر بھی زور دیا گیا ہے، آئی ایم ایف مشن پاکستان میں سیلاب کے نقصانات پر گہرے دکھ اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہے اور حکومتِ پاکستان کی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کرتا ہے۔ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے آئی ایم ایف پاکستان کا ارب ڈالرز کے تحت گیا ہے کے لیے
پڑھیں:
دنیا تیزی سے تبدیل، مسلح افواج کو مستقبل کی جنگوں کیلئے تیار رہنا ہوگا: جنرل ساحر شمشاد
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا ہے کہ دنیا ناقابل تصور رفتار سے تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے مسلح افواج میں ہم آہنگی اور مشترکہ حکمت عملی ضروری ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق جوائنٹ سٹاف ہیڈکوارٹرز میں پاکستان کے آخری چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے الوداعی خطاب میں کہا کہ ہمارے ارد گرد کی دنیا ایک ناقابل تصور رفتار سے تبدیل ہو رہی ہے، اس تبدیلی سے ہماری اندرونی اور بیرونی آزمائشوں پر گہرے اثرات مرتّب ہو رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ اثرات ہائبرڈ محاذ آرائی سے لے کر جنگ تک محیط ہیں، ان حالات میں ہماری مسلح افواج کو زیادہ ہم آہنگی ، مشترکہ تعاون اور یکسو مقصد کے ساتھ تیار رہنا ہوگا۔جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا کہ میں مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی ، مشترکہ حکمت عملی اور تعاون کو ایک اہم ضرورت سمجھتا ہوں نا کہ ایک خواہش، یہ مستقبل کے چینجلز کا سامنا کرنے کیلئے ایک ناگزیر تنظیمی اصلاح ہے۔اس موقع پر زور دیتے ہوئے جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا کہ میں اس بات کو ضروری سمجھتا ہوں کہ ایک مکمل بااختیار اور مناسب صلاحیت سے لیس مسلح افواج نظام کیلئے ایک عملی ضرورت ہے، ہماری افواج کو مربوط حکمت عملی سے مستقبل کی جنگوں کیلئے تیار رہنا ہوگا۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نے کہا کہ میں تینوں افواج بالخصوص جوائنٹ سٹاف ہیڈکوارٹر کیلئے اپنی نیک تمنائیں اور دعائیں بھی پیش کرتا ہوں، یہ ڈھانچہ جس طرح بھی قائم کیا جائے، اسے اپنی نئی ذمہ داریوں کو ایمانداری اور عزم کے ساتھ پورا کرنا چاہئے۔