پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی انتقال کرگئے
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سندھ اسمبلی کے طویل مدت تک اسپیکر رہنے والے آغا سراج درانی انتقال کر گئے۔
ذرائع کے مطابق آغا سراج درانی کو تقریباً ایک ماہ قبل برین ہیمبرج ہوا تھا جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم چند روز قبل ان کی طبیعت ایک بار پھر بگڑ گئی، اور آج ڈاکٹروں نے ان کے انتقال کی تصدیق کر دی۔
ایوان صدر کی جانب سے آغا سراج درانی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا ہے، اور ان کی سیاسی اور جمہوری خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی آغا سراج درانی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت اور ان کے اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آغا سراج درانی نے اسپیکر سندھ اسمبلی کی حیثیت سے اہم ذمہ داریاں نبھائیں، اور ان کی عوامی اور سیاسی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آغا سراج درانی پیپلز پارٹی کے مخلص، وفادار اور اصول پسند رہنما تھے۔ انہوں نے سندھ اسمبلی کو مضبوط بنانے اور جمہوریت کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا، ان کی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ اسمبلی کے انتقال
پڑھیں:
سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو کم کرنے میں پیپلز پارٹی کا کردار ڈھکا چھپا نہیں، سعید غنی
پریس کانفرنس کے دوران سندھ کے سینئر وزیر نے کہا کہ آج بھی تمام جماعتیں آئین پر متفق ہیں جو پیپلز پارٹی نے دیا، اس ملک کو ایٹم بم اور میزائیل بھی پیپلز پارٹی نے دیئے، صوبائی خودمختاری بھی پیپلز پارٹی نے دی، ہماری قیادت نے قربانی دے کر مثال قائم کی۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر و صدر پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی و قائد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 58 سال قبل پیپلز پارٹی کی جب بنیاد رکھی تھی اس وقت پاکستان کی سیاست جاگیرداروں اور وڈیروں کے ڈرائینگ روم تک محدود تھی اور پیپلز پارٹی کے قیام کے بعد سے آج تک ملکی سیاست عام عوام، مزدوروں، محنت کشوں اور متوسط و غریب طبقہ کے ہاتھوں میں آگئی ہے، سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو کم سے کم کرنے میں پیپلز پارٹی کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، البتہ اس کی ذمہ داری دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ عدلیہ، صحافیوں اور سول سوسائٹی پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اس میں اپنا بھرپور کردار کریں تاکہ سیاست اور جمہوریت اس کی اصل روح کے تحت قائم رہ سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شاہ احمد نورانی عیدگاہ گراؤنڈ میں پرہجوم پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے قیام سے پہلے اس ملک کی سیاست پر امیروں، وڈیروں اور جاگیرداروں کا قبضہ تھا اور ان کی سیاست ڈرائنگ روم سے کی جاتی تھی لیکن پیپلز پارٹی بننے کے بعد سے عام لوگوم پر سیاست کے دروازے کھلے، پیپلز پارٹی کے آنے کے بعد جو تبدیلی آئی وہ کسی پارٹی کے حصے میں نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی تمام جماعتیں آئین پر متفق ہیں جو پیپلز پارٹی نے دیا، اس ملک کو ایٹم بم اور میزائیل بھی پیپلز پارٹی نے دیئے، صوبائی خودمختاری بھی پیپلز پارٹی نے دی۔ سعید غنی نے کہا کہ ہماری قیادت نے قربانی دے کر مثال قائم کی اور ان 58 سالوں میں تاریخی کامیابیوں کے ساتھ تکلیفیں بھی ملیں۔