گورنر کے پی نو منتخب وزیراعلیٰ کی حلف برداری تقریب میں آتے ہوئے گرتے گرتے بچے
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
خیبر پختونخوا گورنر ہاؤس میں نو منتخب وزیراعلیٰ کی حلف برداری کی تقریب میں گورنر فیصل کریم تقریب میں آتے ہوئے سیڑھیوں سے گرتے گرتے بچے۔
تقریب میں کارکنان کی دھکم پیل سے گورنر توازن برقرار نہ رکھ سکے، نو منتخب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو بھی دھکے لگے۔
خیال رہے کہ خیبر پختونخوا کے نئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے حلف اٹھا لیا۔
سہیل آفریدی پیر کو نئے قائدِ ایوان منتخب ہوں گے، سلمان اکرم راجاسلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ صوبہ نئے جذبے کے ساتھ آگے بڑھے گا، سہیل آفریدی نہایت پُرعزم نوجوان ہیں، وہ قبائلی علاقے سے پہلے وزیرِ اعلیٰ ہوں گے، ان کی قیادت میں صوبہ ترقی کرے گا۔
پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے نئے وزیراعلیٰ سے حلف لیا۔
گورنر ہاؤس پشاور میں ہونے والی حلف برداری تقریب میں اراکین صوبائی اسمبلی، پی ٹی آئی کے رہنما اور دیگر حکام شریک تھے۔
حلف برداری تقریب میں پی ٹی آئی کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی، اس دوران نعرے بازی اور دھکم پیل بھی ہوئی۔
یاد رہے کہ محمد سہیل آفریدی حلقہ پی کے 70 خیبر 2 سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ایم پی اے منتخب ہوئے تھے۔
وہ صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن بھی بنائے گئے تھے اور اس سے قبل وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی سی اینڈ ڈبلیو بھی رہ چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی حلف برداری
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔