شرم سے سر جھک گیا ہے، جاوید اختر کا بھارت میں طالبان وزیر کے استقبال پر سخت ردعمل سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
معروف بھارتی نغمہ نگار اور اسکرین رائٹر جاوید اختر نے افغان طالبان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کو بھارت میں دیے گئے ’استقبال‘ پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’شرمندگی سے ان کا سر جھک گیا ہے‘۔
افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی چھ روزہ دورے پر بھارت میں موجود ہیں، جو 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد کسی طالبان رہنما کا بھارت کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔
بھارت میں امیر خان متقی کو ملنے والے استقبالیے پر معروف اسکرین رائٹر جاوید اختر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے لکھا، ’’مجھے شرم آتی ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ دنیا کے بدترین دہشت گرد گروہ طالبان کے نمائندے کو ان ہی لوگوں کی جانب سے عزت و احترام دیا جا رہا ہے جو ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف تقریریں کرتے ہیں۔‘‘
I hang my conduct in contrition when we see a kind of honour and accepting has been given to a deputy of a world’s misfortune terrorists organisation Taliban by those who kick a pulpit opposite all kind of terrorists .
— Javed Akhtar (@Javedakhtarjadu) October 13, 2025
جاوید اختر نے بھارتی ریاست اُتر پردیش میں موجود دارالعلوم دیوبند کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’دیوبند کو بھی شرم آنی چاہیے، جس نے اس شخص کو مذہبی ہیرو کے طور پر خوش آمدید کہا جو لڑکیوں کی تعلیم پر مکمل پابندی لگانے والوں میں شامل ہے۔‘‘
واضح رہے کہ امیر خان متقی کو اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے باوجود سفر کی خصوصی اجازت دی گئی ہے۔ ان کے حالیہ دورے کے دوران خواتین صحافیوں کو ایک پریس کانفرنس سے دور رکھنے پر بھی تنازع کھڑا ہوا، جس پر طالبان وزیرِ خارجہ نے وضاحت دی کہ یہ "محض تکنیکی مسئلہ” تھا، کسی کو جان بوجھ کر نہیں روکا گیا تھا۔
How we wish that a pointy witted women reporters like Anjana Om Kashyap , Chitra , Navika and Rubika could attend a initial press discussion of that lady hater Talibani who was a central guest of the physical nation though Alas …
— Javed Akhtar (@Javedakhtarjadu) October 14, 2025
TagsShowbiz News Urdu
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: جاوید اختر بھارت میں
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی