معروف بھارتی نغمہ نگار اور اسکرین رائٹر جاوید اختر نے افغان طالبان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کو بھارت میں دیے گئے ’استقبال‘ پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’شرمندگی سے ان کا سر جھک گیا ہے‘۔

افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی چھ روزہ دورے پر بھارت میں موجود ہیں، جو 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد کسی طالبان رہنما کا بھارت کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔

بھارت میں امیر خان متقی کو ملنے والے استقبالیے پر معروف اسکرین رائٹر جاوید اختر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے لکھا، ’’مجھے شرم آتی ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ دنیا کے بدترین دہشت گرد گروہ طالبان کے نمائندے کو ان ہی لوگوں کی جانب سے عزت و احترام دیا جا رہا ہے جو ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف تقریریں کرتے ہیں۔‘‘

I hang my conduct in contrition when we see a kind of honour and accepting has been given to a deputy of a world’s misfortune terrorists organisation Taliban by those who kick a pulpit opposite all kind of terrorists .

Shame on Deoband too for giving such a zealous acquire to their “…

— Javed Akhtar (@Javedakhtarjadu) October 13, 2025

جاوید اختر نے بھارتی ریاست اُتر پردیش میں موجود دارالعلوم دیوبند کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’دیوبند کو بھی شرم آنی چاہیے، جس نے اس شخص کو مذہبی ہیرو کے طور پر خوش آمدید کہا جو لڑکیوں کی تعلیم پر مکمل پابندی لگانے والوں میں شامل ہے۔‘‘

واضح رہے کہ امیر خان متقی کو اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے باوجود سفر کی خصوصی اجازت دی گئی ہے۔ ان کے حالیہ دورے کے دوران خواتین صحافیوں کو ایک پریس کانفرنس سے دور رکھنے پر بھی تنازع کھڑا ہوا، جس پر طالبان وزیرِ خارجہ نے وضاحت دی کہ یہ "محض تکنیکی مسئلہ” تھا، کسی کو جان بوجھ کر نہیں روکا گیا تھا۔ 

How we wish that a pointy witted women reporters like Anjana Om Kashyap , Chitra , Navika and Rubika could attend a initial press discussion of that lady hater Talibani who was a central guest of the physical nation though Alas …

— Javed Akhtar (@Javedakhtarjadu) October 14, 2025

 

TagsShowbiz News Urdu

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: جاوید اختر بھارت میں

پڑھیں:

غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی میں اسرائیل اور بھارت گٹھ جوڑ سامنے آگیا

غزہ میں جاری صیہونی ریاست کے ظلم و بربریت اور فلسطینیوں کی نسل کشی میں بھارت نے جو مدد کی تھی اُس کا نذرانہ اب وصول کرلیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان ایک اہم مشاورتی اجلاس ہوا۔

جس میں بھارت اور اسرائیل کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بڑھانے پر اتفاق اور مستقبل کے لیے ایک لائحہ عمل بھی طے کیا گیا۔

اس موقع پر مودی سرکار کے وزیر برائے کامرس اور صنعت پیوش گوئل اور اسرائیلی ہم منصب نیر برکت نے ٹی او آر پر دستخط کیے۔

جس میں طے کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک تجارت کو فروغ دینے کے لیے ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں کو ختم کریں گے اور قواعد میں نرمی برتیں گے۔

دستخط کی تقریب کے بعد دونوں وزرا نے دوطرفہ تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری میں اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا بھارت اور اسرائیل کا مقصد ایک ہی ہے۔

واضح رہے کہ غزہ جنگ کے بعد سے بھارت کی اسرائیل سے بڑھتی ہوئی پینگوں نے ثابت کردیا کہ مودی سرکار بھی فلسطینیوں کی نسل کشی میں اتنی ہی ملوث رہی ہے جتنا کہ خود اسرائیل رہا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • بھارت و افغان گٹھ جوڑاورامن
  • یو این ہائی کمشنر کا 27ویں آئینی ترمیم پر بیان، پاکستان کا سخت موقف سامنے آگیا
  • 27 ویں ترمیم سے متعلق یواین ہائی کمشنر کے بیان پر پاکستان کا سخت ردعمل سامنے آگیا
  • سندھ تاقیامت پاکستان کا حصہ رہے گا، بھارت کا خواب خواب ہی رہے گا: شرجیل انعام میمن
  • شام کے وزیر خارجہ  کا اسرائیل کے حملوں کے خلاف عالمی ردعمل کا مطالبہ
  • شامی سرزمین پر صیہونی حملے کیخلاف قطر کا ردعمل
  • پاکستانیوں کو امارات کے ویزے نہ ملنے سے متعلق حکومت کی وضاحت سامنے آگئی
  • مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں قابل مذمت ہیں ، جاوید قصوری
  • خالد خورشید حکومت گرانے سے متعلق گورنر کے بیان پر تحریک انصاف کا ردعمل سامنے آ گیا
  • غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی میں اسرائیل اور بھارت گٹھ جوڑ سامنے آگیا