اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 اکتوبر2025ء) وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے جمعیت علمائے پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ شاہ اویس نورانی نے اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں مذہبی ہم آہنگی، رواداری، بھائی چارے اور قومی اتحاد کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں اس بات پر مکمل اتفاق کیا گیا کہ ملک میں پائیدار امن کے قیام اور سماجی ہم آہنگی کے لیے تمام مکاتبِ فکر کو باہمی تعاون اور مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے واضح کیا کہ کسی بھی بے گناہ شخص کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی اور کسی مدرسے کو بند نہیں کیا جائے گا تاہم شرپسند اور انتہاپسند عناصر سے سختی سے نمٹا جائے گا اور قانون ہاتھ میں لینے یا ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔

(جاری ہے)

محسن نقوی نے کہا کہ قائدِاعظم کے پاکستان میں شرپسندی، انتہاپسندی اور انتشار پھیلانے والوں کی کوئی گنجائش نہیں۔

ایسے عناصر کے خلاف آہنی ہاتھوں سے کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ علمائے کرام مذہبی ہم آہنگی، صبر و تحمل اور امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اور دینی تعلیم کا فروغ ہم سب کا مشترکہ فریضہ ہے۔علامہ شاہ اویس نورانی نے اس موقع پر کہا کہ جمعیت علمائے پاکستان ملک میں امن، رواداری اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی۔ملاقات میں ملک میں مذہبی رواداری اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے محسن نقوی ہم آہنگی کے فروغ

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال