وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں، ہتھیار اٹھانے والوں اور قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان قائداعظم کا ملک ہے جہاں انتہاپسندی، بے امنی اور شرپسندی کی کوئی گنجائش نہیں۔
یہ بات انہوں نے جمعیت علمائے پاکستان کے سیکرٹری جنرل شاہ اویس نورانی سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں قومی یکجہتی، مذہبی ہم آہنگی اور معاشرتی رواداری کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ کسی بے گناہ شخص کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی۔ جو افراد بے گناہ ثابت ہوں، انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے گا۔ کسی بھی مدرسے کو بند نہیں کیا جائے گا، البتہ شرپسند عناصر سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
وزیر داخلہ نے اس موقع پر کہا کہ ملک میں پائیدار امن، مذہبی برداشت اور رواداری کے لیے علمائے کرام کا کردار انتہائی اہم ہے۔ دینی مدارس دینی تعلیم کا مرکز ہیں اور ان کا احترام ہم سب پر لازم ہے، تاہم انتہاپسندی یا تشدد کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ امن کے فروغ کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔
شاہ اویس نورانی نے یقین دلایا کہ ان کی جماعت رواداری، بھائی چارے اور امن کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گی۔ انہوں نے اس بات کو سراہا کہ حکومت بے گناہوں کے تحفظ اور علماء سے مشاورت کے ساتھ پالیسی تشکیل دے رہی ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: جائے گا

پڑھیں:

بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟

امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔

اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔

یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔

اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔

امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی

اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔

اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات