پنجاب حکومت کے منصوبے ’’ایئر پنجاب‘‘ میں اہم پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
لاہور:
صوبہ پنجاب کی اپنی ایئر لائن کے قیام کے لیے عملی اقدامات تیز کر دیے گئے، ورکنگ کمیٹی نے ایک ارب روپے فنڈز کی ڈیمانڈ محکمہ خزانہ کو بھجوا دی۔
صوبائی حکومت ایئر پنجاب کے نام سے صوبے کی پہلی ایئر لائن کی منظوری دے چکی ہے۔
حکام کے مطابق پنجاب حکومت پانچ طیارے لیز پر لینے کا ارادہ رکھتی ہے اور منصوبے کا حتمی تخمینہ لگانے کا عمل ابھی جاری ہے، طیاروں کی لیزنگ کے حوالے سے مختلف کمپنیوں سے بات چیت بھی جاری ہے۔
پنجاب حکومت جلد ایئر اتھارٹی یا بورڈ کی حتمی منظوری دے گی۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی کو لائسنس کے اجراء کے لیے درخواست جمع کروا دی گئی۔ ’’ایئر پنجاب‘‘ سے صوبے میں فضائی سفر کے نئے امکانات روشن ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔