ٹرمپ کے سابق مشیر جان بولٹن پر فرد جرم عائد
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر قومی سلامتی جان بولٹن پر خفیہ دفاعی معلومات افشا کرنے کے الزام میں فردِ جرم عائد کر دی گئی ۔ امریکی میڈیا کے مطابق محکمہ انصاف نے موقف اختیار کیا ہے کہ جان بولٹن نے حساس دفاعی دستاویزات کو ذاتی ای میل اور چیٹ ایپس کے ذریعے منتقل کیا، جو قومی سلامتی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ 2021 ء میں ایرانی ہیکرز نے جان بولٹن کے ای میل اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر کے حساس معلومات چرالی تھیں۔ ایف بی آئی کے مطابق بولٹن کے نمائندے نے اس وقت بتایا تھا کہ اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے، تاہم انہوں نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ اس میں خفیہ سرکاری معلومات بھی موجود تھیں۔ دوسری جانب جان بولٹن نے الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جان بولٹن
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔