Jasarat News:
2026-07-24@05:48:16 GMT

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہارجائوں گی

اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251203-03-8
اسماء صدیقہ
نئے دور کا یہ بڑا کھوکھلا سا شور ہے کہ اب وہ دور لد گیا جب عورتیں کبھی چولہا پھٹنے، اور کبھی دوپٹا جلنے سے ماری جاتی تھیں تو کبھی جسمانی اور ذہنی تشدد سے سلگ سلگ کے مرمر کے جیتی تھیں اب وہ گھروں میں مقید نہیں ان کو اپنے حقوق کا شعور آگیا ہے وہ نکل کر کیا نہیں کررہی ہیں خودمختار ہیں ہر شعبے میں خود کو منوارہی ہیں مرد کے شانہ بشانہ چل رہی ہیں (مساوات کی چھاؤں میں بڑا نشہ ہے) ہے لیکن ٹی وی چینلوں سے سوشل میڈیا تک عورتوں پر تشدد بڑھتے جانے کی خبریں اب نئے انداز سے آ رہی ہیں غریب گھرانوں میں تو تشدد کے واقعات عام تھے ہی مگر مڈل کلاس مرد بھی بھی اچھا خاصہ گھونٹتے تھے مگر افسوس ناک اضافہ یہ ہے کہ اب ورکنگ وومن بھی نشانہ بنتی جا رہی ہیںکبھی پس دیوار تو کبھی سر راہ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ یہ تو امپاورمنٹ کا حصہ ہیں پھر کیوں زیر عتاب ہے یا شاید اپر کلاس، ایلیٹ کلاس کی عورت کو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے اس لیے کہ وہ تو خود مختار ہے کئی مرد اس کے پیچھے چلتے ہیں واقعی ایسی عورتیں تو راج کرتی ہوں امپاور منٹ کی چھاؤں میں سکھی ہوں گی راوی چین ہی چین لکھتا ہوگا مگر حقیقت کچھ اور ہے دراصل ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور والا معاملہ ہے۔ اپنے گردو پیش پر نظر ڈالیے زمینی حقائق تو کچھ اور ہیں۔

پاکستان کی دو امپاورڈ خواتین کی کہانی سب کے سامنے ہے جس میں ان کی بے چارگی کا کڑوا سچ بھرپور انداز سے چیختا ہے کہ اس کھوکھلے نعرے کی ساری قلعی یک بیک اُترتی چلی جاتی ہے، پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہ بھلائی جانے والی سچی کہانی ہے جو ایک سرد شام کی دردناک اور ہولناک داستان ہے پاکستان کی وہ عورت جو دو بار سب سے بڑی پوسٹ پہ فائز رہی بہت مقبول ہوئی منہ میں سونے کا چمچہ لے کر محل میں پیدا ہوئی جی بالکل حامیوں سے مخالفین تک سب مانتے ہیں کہ بینظیر بھٹو بہت بہادر بہت ذہین اور خاصی حد تک غیر سطحی تھیں بہت عوامی ہونے کے باوجود کئی برسوں کی جلا وطنی ختم کر کے وطن لوٹی تھیں تب انہوں نے آمریت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا اکتوبر 2007 اسی وقت ان پہ قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ بال بال بچ گئی مگر دو ماہ بعد جب راولپنڈی لیاقت باغ میں واپس آتے ہوئے جان کی بازی ہار گئیں ان کا سفید دوپٹا بھرے مجمع میں ان کے خون سے سرخ ہو گیا یہ آمرانہ سازش تھی یا ان کے شریک حیات کی بے وفائی کا کوئی عملی اظہار جس کے چرچے اس وقت خبروں کا حصہ بن رہے تھے بے شک اس وقت کسی بڑی پوسٹ پہ نہیں تھیں مگر دو بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہنے والی اپوزیشن لیڈر تھیں اور دنیا بھر میں مقبول تھیں یہ 27 دسمبر 2007 تھا ہجوم میں محافظوں کے درمیان ایک کھلی جگہ ہونے والا حادثہ تھا تب ایک اور باصلاحیت اور امپاورڈ خاتون کا کہا ہوا اک شعر ان پہ صادق آگیا۔

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کر دے گا

اور مسلسل کٹھ پتلی بنائے جانے کے باوجود کٹھ پتلی نہیں بن سکی تھی، آخر تین سبجیکٹ میں ماسٹر تھیں جن میں ایک فلسفہ بھی شامل تھا کیا اسے پڑھنے والی عورت کٹھ پتلی بن سکتی ہے؟ ان کے پہلے دور میں دنیا نے اس اہم منصب پر فائز امپاورڈ خاتون کی شدید بے بسی دیکھی ہزار اختلاف سہی مگر ان کا اپنا بھائی سڑک پر پولیس مقابلے میں شدید زخمی ہو کر رگڑتا ہوا مارا گیا قطع نظر اس کے کہ وہ بڑا دہشت گرد تھا کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ پولیس کو روک سکے، نہ اس کی بہن کو خبر تھی بہرحال اطلاع ملنے پر بڑے منصب پر فائز وہ عورت بے ساختہ روتے ہوئے دوڑی چلی آئی کیا کسی مرد وزیراعظم کے دور میں ایسا ہو سکتا تھا؟ تب سماج نے اس کھوکھلے نعرے کی قلعی کھلتے ہوئے دیکھی۔

دوسری امپاورڈ خاتون کی کہانی اس سے بھی تیرہ سال پہلے کی ہے اتفاق دیکھیے تاریخ اس سے ایک روز پہلے کی 26 دسمبر 1994 کی بہت جینئس اور معروف شاعرہ تھیں جو سول سروس کے اعلیٰ عہدے پہ فائز تھیں جی یہ شعرو ادب کا بڑا نام مرحومہ پروین شاکر تھیں ان کی المناک حادثاتی موت کی کہانی ہے۔ ہر سیاسی پارٹی سے دور بھاگتی تھیں زندگی کے المیوں سے لڑتے ہوئے اپنی دنیا آپ بنانے والی خاتون کی کہانی ان کی نظم ’’ورکنگ وومن‘‘ بھی ایک آئینہ ہے جس میں امپاورمنٹ کا سچا عکس شکوہ سنج ہے۔ محض 24 سال کی عمر میں ان کی کتاب ’’خوشبو‘‘ پہ آدم جی ایوارڈ دیاگیا امریکا کی ہارڈورڈ یونی ورسٹی علم کا مقطع کہی جاتی ہے انہوں نے وہاں سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی اس سے پہلے انگلش میں ڈبل ماسٹر کیا تھا اور اردو کی پائے کی شاعرہ تھیں اہم منصب پہ فائز ہونے کے باوجود ’’منصب دلبری‘‘ ایک ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں ان سے چھن چکا تھا جس کا دکھ ان کی شاعری میں جابجا ملتا ہے۔

ہمارے قحط بھی اور بارشیں بھی پوری ہوئیں
ہمارے نام کا اب تو کوئی عذاب نہ ہو
بس ایک نام کا تارہ سدا چمکتا رہے
گلہ نہیں جو مقدر میں ماہتاب نہ ہو
……
گھر کے مٹنے کا غم تو ہوتا ہے
اپنے ملبے پہ کون سوتا ہے
……
جس طرح خواب میں میرے ہوگئے ریزہ ریزہ
اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے نہ بکھرے کوئی
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

خاصی آزاد خیال لگنے کے باوجود ایک تہذیب سے جڑی تھیں ان کی ہم عصر فیمنسٹ خواتین ان پہ شدید تنقید کرتیں کہ انہوں نے مردوں کا دماغ خراب کیا ہے ان کے مداحوں بلکہ معتقدین میں اس وقت سے آج تک کے بہت مرد شامل ہیں اس لیے کہ ان کا تصور مرد بہت عظیم تھا شکوہ اپنی جگہ یہ بات بھی ان کی انفرادیت کا باعث تھی حادثاتی موت سے پہلے حادثاتی زندگی نے ان کو نڈھال کردیا تھا محض 42 سال کی عمر میں المناک ایکسیڈنٹ میں جاں بحق ہوگئیں مذکورہ دونوں خواتین سے آپ شدید اختلاف رکھتے ہوئے بھی یہ بات مانیں گے کہ یہ دیواروں کے اندر تشدد سے نہیں ختم ہوئیں بلکہ کھلی شاہراہ پہ جان کی بازی ہاری تھیں ان کی زندگیاں نہ چولہا پھٹنے سے ختم ہوئیں نہ کسی اور گھریلو تشدد سے ایسی اور بھی بہت پاور فل خودمختار مانی جانے والی عورتیں ہیں مگر ان کے اندر کوئی شدید محرومی، کوئی نارسائی، کوئی بڑا المیہ ان کو ملول اور بے بس رکھتا ہے گھر کے اندر تحفظ عزت اور سکھ کی چھاؤں اور ایک محرم کے مان کو تڑپتی ہیں یہ کمزور کے سچ کی طاقتور جھوٹ کے مقابل بے نام سی ہار ہے محض مرد عورت کی بات نہیں طاقت سچ کا بڑا حق ہے سماجی، معاشی، سیاسی، اخلاقی سارے مسائل اسی سبب سے لاینحل ہیں بہرحال اس میں ان کا قصور ہویا نہیں الگ بحث ہے مگر

ناحق ہم مجبوروں پہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

کا معاملہ ہے اس لیے کہ محرم نگران کی پناہ اس کی وفا اور اعتبار بڑی پاور ہے وہ اس سے ذرا پیچھے چل کر بڑا راج حاصل کرتی ہے یہاں آکر قوامون علی النساء کے آسمانی حکم کو چومنے گلے لگانے اور پھر اس کی عملی تکمیل کو دل کرتا ہے اور اس کی شدید ضرورت ہے۔

جی ہاں یہ دومثالیں کہانیاں نہیں بڑی ہیڈلائن تھیں تشدد کی کھلی سچائی تحفظ عزت اور سکون کے مثلث کی تلاش میں وہ کیا نہیں کرگئیں بڑا مقام بھی مل گیا مگر دونوں کی بے بس زندگی سے بے بس اموات پوچھ رہی ہیں کہ آخر! یہ وومن امپاورمنٹ کیا ہے؟

مگر… ہر چند کہ کہیں ہے مگر نہیں ہے۔

اسماء صدیقہ سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے باوجود کی کہانی رہی ہیں ہے مگر

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف