مقبوضہ بیت المقدس: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے امن معاہدے کے تحت ایک اور اسرائیلی مغوی کی لاش ریڈ کراس کے حوالے کردی۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ریڈ کراس کے ذریعے انہیں ایک مغوی کی لاش موصول ہوئی ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق اب تک 28 میں سے 9 مغویوں کی لاشیں واپس مل چکی ہیں۔

حماس کے ترجمان نے وضاحت کی کہ متعدد لاشیں اب بھی تباہ شدہ عمارتوں اور سرنگوں کے ملبے تلے دبی ہوئی ہیں، جنہیں نکالنے میں بھاری مشینری اور وقت درکار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری نے ایسے حالات پیدا کیے ہیں جن میں انسانی باقیات تک پہنچنا انتہائی دشوار ہو چکا ہے۔

قبل ازیں دو روز قبل اسرائیلی وزیر دفاع کی جانب سے دھمکی آمیز بیان جاری کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ حماس اگر معاہدے کی شرائط پر مکمل عمل نہیں کرتا اور اسرائیل کے تمام یرغمالیوں کی لاشیں واپس نہیں کی جاتیں تو فوج غزہ میں دوبارہ حملے شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔

اسی اثنا میں اسرائیلی فضائیہ کی جانب سے گزشتہ روز بھی غزہ پر فضائی حملہ کیا گیا ہے، جس میں ایک ہی خاندان کے گیارہ افراد کو شہید کردیا گیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے حماس پر امن معاہدے پر عمل کے لیے دباؤ ڈالنا  محض دھمکیاں دینے کے مترادف ہے جب کہ صہیونی ریاست خود اپنی جارحیت جاری رکھتے ہوئے عمل معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز حماس نے کہا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے عائد کردہ پابندیاں اور غزہ کے شمالی حصے میں جاری جارحیت تباہ شدہ سرنگوں سے لاشیں نکالنے کے عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ تنظیم کے مطابق اسرائیلی فورسز نے ان علاقوں میں بارود برسا کر نہ صرف انسانی ہمدردی کے کاموں کو متاثر کیا بلکہ ریڈ کراس کے اہلکاروں کو بھی کئی مقامات پر جانے سے روک رکھا ہے۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق یہ تازہ پیش رفت اگرچہ معمولی نظر آتی ہے، لیکن غزہ امن معاہدے کے نفاذ کے حوالے سے ایک عملی قدم ہے، جو مستقبل میں فریقین کے درمیان قیدیوں اور لاشوں کے تبادلے کے لیے ماحول ہموار کر سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: ریڈ کراس کے کی جانب سے

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم