یونان : ٹریفک حادثے میں 2 پاکستانی جاں بحق‘ متعدد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایتھنز : یونان میں خطرناک ٹریفک حادثے کے باعث 2 پاکستانی جاں بحق جبکہ متعدد شدید زخمی بھی ہوگئے ہیں۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یونان میںمذکورہ ٹریفک حادثہ سڑک پر پھسلن کے باعث پیش آیا، جس میں 3 افراد کے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کار میں سوار 5 پاکستانی انافیتا سے ایتھنز جا رہے تھے، جن کا تعلق پاکستان کے مختلف شہروں سے بتایا گیا ہے۔ جاں بحق افراد کی شناخت مبشر خان (قصور) اور شعیب اللہ (سیالکوٹ) کے طور پر ہوئی ہے۔
عالمی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق زخمی شدہ افراد میں محمد اشفاق، محمد ارسلان اور سعد علی شامل ہیں، جنہیں تشویشناک حالت میں اسپتال داخل کیا گیا ہے۔ متاثرین میں سے 2 کا تعلق سیالکوٹ، 2 کا قصور جبکہ ایک شخص کا تعلق گجرات سے ہے۔ واضح رہے کہ ٹریفک پولیس نے حادثے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ حادثے کی اصل وجوہات معلوم کی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔