پاکستان نے آئی سی سی کا پاکستانی حملے میں مقامی افغان کرکٹرز کی ہلاکت کا دعویٰ مسترد کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے اُس غیر مصدقہ اور متنازع بیان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ پاکستانی حملے میں تین مقامی افغان کرکٹرز ہلاک ہوئے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ایک بیان میں آئی سی سی کے اس رویے کو متعصب، سلیکٹو اور ناپختہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارے نے پاکستان پر بے بنیاد الزام عائد کیا ہے، جس کی کسی آزاد اور قابلِ تصدیق ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی۔
عطا تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے ردعمل میں کہا کہ آئی سی سی نے تاحال اس دعوے کے حق میں کوئی آزادانہ شواہد یا تحقیقاتی تفصیلات فراہم نہیں کیں، جو کہ اس کے غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خود سرحد پار سے دہشت گردی کا شکار ہے، لہٰذا ایسے الزامات نہ صرف حقیقت کے منافی ہیں بلکہ متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ آئی سی سی کی موجودہ قیادت، جو بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے سیکریٹری جے شاہ کے زیرِ اثر ہے، ایک مخصوص سیاسی ایجنڈے کے تحت کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کے بیان کو پہلے جے شاہ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے دہرایا، اور اس کے فوراً بعد افغان کرکٹ بورڈ نے بھی وہی دعویٰ جاری کر دیا، جس سے اس مہم کے پسِ پردہ ہم آہنگی کا واضح اندازہ ہوتا ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ ایسے اقدامات نے آئی سی سی کی غیر جانب دارانہ ساکھ اور اس کے ادارہ جاتی وقار پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ کشیدگی کے تناظر میں افغان کرکٹ بورڈ نے پاکستان میں نومبر میں شیڈول سہ ملکی سیریز سے
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: افغان کرکٹ کہا کہ
پڑھیں:
ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اسکے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر اب ہندوستان کی معیشت پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنائے رکھنے اور روپئے پر دباؤ کم کرنے کے لئے اپنے سونے کے ذخیرے کا کچھ حصہ فروخت کر دیا ہے۔ بلومبرگ اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق 22 مئی کو ختم ہوئے 2 ہفتے کے دوران آر بی آئی نے قریب 12 ارب (تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپئے) قیمت کا سونا فروخت کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران مرکزی بینک نے قریب 7.5 ارب ڈالر (713.23 ارب روپئے) کے غیر ملکی کرنسی اثاثے حاصل کئے ہیں۔
بتا دیں کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل درآمد کنندہ ملک ہے۔ ایسے میں مغربی ایشیا میں بڑھتے تنازع کے سبب تیل کی قیمتوں میں تیزی آنے سے بھارت پر اضافی اقتصادی دباؤ پڑ رہا ہے۔ تیل درآمد پر اقتصادی خرچ ہونے سے زر مبادلہ کے ذخائر اور روپئے دونوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ "بلومبرگ اکنامکس" کے سینیئر ہندوستانی ماہر اقتصادیات ابھیشیک گپتا نے بتایا کہ دستیاب اعداد و شمار سے اشارہ ملتا ہے کہ آر بی آئی کے سونے کے ذخائر میں کمی آئی ہے جبکہ سونے پر درآمد ڈیوٹی بڑھنے کی وجہ سے اس کی قیمت میں اضافہ ہونا چاہیئے تھا۔ اسی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے مرکزی بینک نے سونے کی فروخت کی ہو۔
اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ آر بی آئی نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مزید مضبوط اور آسانی سے استعمال کے قابل بنائے رکھنے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ ایسا اس لئے بھی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ ایران بحران اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق رکاوٹوں کے باعث تیل کی سپلائی اور عالمی تجارت پر دباؤ بڑھا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر بی آئی مستقبل میں بھی موقع ملنے پر زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے، اگر ڈالر کمزور ہوتا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے یا خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آتی ہے تو مرکزی بینک مزید زر مبادلہ کے ذخائر حاصل کر سکتا ہے۔
مارچ 2025ء کے آخر تک آر بی آئی کے پاس 880.52 میٹرک ٹن سونا تھا۔ اس میں سے تقریباً 77 فیصد سونا ہندوستان میں ہی رکھا گیا تھا جبکہ 6 ماہ پہلے یہ اندازہ 66 فیصد تھا۔ آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اس کے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ سالوں میں آر بی آئی نے سونے کے ذخائر کا بڑا حصہ ہندوستان واپس منگایا ہے۔ اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ روس-یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک کے ذریعہ روس کے غیر ملکی اثاثے منجمد کئے جانے سے کئی ممالک کے مرکزی بینک غیر ممالک میں رکھے ذخیرے کے حوالے سے زیادہ الرٹ ہوگئے ہیں۔