Jasarat News:
2026-07-24@02:42:44 GMT

پاک افغان جنگ: غار ت گر کاشانہ دین نبوی

اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251019-03-8
پاک افغان جنگ کے بارے میں کیا کہا جائے۔ دونوں طرف نعرہ تکبیر بلند ہورہا ہے اور دونوں طرف مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے۔ دونوں طرف خون مسلم کی حرمت کے بارے میں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ اور رسالت مآبؐ کا حکم معطل ہے اور کفار کی کھینچی ہوئی سرحد مقدس ہے۔ اقبال یاد آجاتے ہیں؛

اس دور میں مے اور ہے، جام اور ہے جم اور
ساقی نے بِنا کی روِشِ لُطف و ستم اور
مسلم نے بھی تعمیر کِیا اپنا حرم اور
تہذیب کے آزر نے ترشوائے صنم اور
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے، وہ مذہب کا کفن ہے
یہ بُت کہ تراشیدہ تہذیبِ نوی ہے
غارت گرِ کاشانہ دینِ نبَوی ہے
بازو ترا توحید کی قوّت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے، تُو مصطفوی ہے

امت مسلمہ آج جس بنیادی مسئلے سے دوچار ہے وہ یہ ہے کہ مسلم ممالک کی حکومتوں میں اسلام کسی کا بھی وحدت بخش نقطہ نہیں ہے۔وطن پرستی کا شرک آج تمام محبتوں پر غالب ہے۔ وطن کی محبت نے مسلمانوں کو تقسیم ہی نہیں کیا ہے ایک دوسرے کے قتل کو بھی جشن میں تبدیل کردیا ہے۔ ضروری تھا کہ دونوں ملک پاکستان اور افغانستان انگریز استعمار کی کھینچی ہوئی لکیرکو کوئی اہمیت دیے بغیر یک جان ہوکر ایک امت کے افراد بن کر دونوں طرف کے مسلمانوں کی فلاح اور ترقی کے لیے مشترکہ اقدامات اُٹھاتے۔ آج اس لکیر کو اہمیت دیتے ہوئے برسر جنگ ہیں۔ آج فلسطینیوں کے قتل پر مصر کے چین وآرام میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ شام کی بربادی پر ترکیہ کے بازار وں کی رونق ماند نہیں پڑتی، یمن کی بھوک پر خلیج کے محلات میں ضیافت کا سماں ہوتاہے۔ اس سلسلۂ کلام کو طول دیتے جائیے۔ اسلام ایک ایسا جرم بنا دیا گیا ہے جو استعمار کی کھینچی ہوئی سرحدوں سے ماورا سوچتا ہے۔

قوم، سرحد اور جھنڈا اب یہ وہ عصبیتیں ہیں مسلمان جس کے لیے جان دیتا بھی ہے اور جان لیتا ہے۔ امت واحدہ کی زندگیوں سے اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کا اقتدار اعلیٰ غائب ہے۔ اس عدم موجودگی نے ہی مسلمانوں کے درمیان ان جزوی مسائل کو جنم دیا ہے جو اب مرکزی موضوع بن گئے ہیں جنہیں جھیلنے پر ہم مجبور ہیں۔ سیاسی عدم استحکام، مسلمانوں کی عدم وحدت، غربت، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم، امت مسلمہ کے وسائل پر استعمار کا تسلط، اسلامی علاقوں پر دیگر اقوام کا قبضہ، ناخواندگی، برے اخلاق کی ترویج وغیرہ۔ یہ وطن پرستی کا ہی بھوت ہے کہ آج مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں مسلمانوں کا قاتل بھارت اور نریندر مودی افغان حکومت کا دوست ہے اور اسلام اور مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن امریکا پاکستان کا دوست ہے۔

پاکستان اور افغانستان کی موجودہ پریشان کن صورتحال بھی اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے اقتدار کی عدم موجودگی اور وطنیت کے بت کو سجدہ ریزی ہے جس نے دونوں طرف شکایتوں کے انبار اور پچھلے ہفتے سے ایک منظم جنگ کی شکل اختیار کرلی ہے۔ یہ سطور لکھتے وقت جس میں 48 گھنٹوں کا سیز فائر آگیا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کا جس طرح شکار ہے، جس طرح یہاں تواتر کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات ہورہے ہیں، ایک ایک دن میں گیارہ جوانوں کی شہادتیں ہورہی ہیں، کوئی بھی ریاست اس صورتحال کو برداشت نہیں کرسکتی۔ پاکستان ٹی ٹی پی کو ان حملوں کا ذمے دار سمجھتا ہے۔ پاکستان یہ بھی سمجھتا ہے کہ افغان حکومت ٹی ٹی پی کو نہ صرف سپورٹ کررہی ہے بلکہ انہیں تحفظ بھی دے رہی ہے۔ لہٰذا پاکستان ایک عرصے سے افغان حکومت پر زور دیتا آرہا ہے کہ وہ افغان سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے اور افغانستان سے ٹی ٹی پی کا خاتمہ کرے۔ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو پھر پاکستان کو خود ٹی ٹی پی کے خلاف اقدام کرنا ہوں گے جن کا نتیجہ پاک افغان کشیدگی اور جنگ کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان پر سوویت یونین کا حملہ ہو یا امریکا، کا پاکستان نے افغان مجاہدین کی بہت مدد کی۔ جس کی وجہ سے امریکا پاکستان سے ناراض بھی رہا اور ڈبل گیم کے طعنے بھی ایک تواتر کے ساتھ دیتا رہا لیکن اقتدار میں آنے کے بعد افغان حکومت کا رویہ اور کردار ’’پاکستان دوست‘‘ کے بجائے مخاصمانہ رہا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ معاملے کے تین فریق ہیں: ٹی ٹی پی، تحریک طالبان پاکستان، ٹی ٹی اے تحریک طالبان افغانستان یعنی افغان حکومت اور پاکستان۔ افغان حکومت کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ٹی ٹی پی سے دشمنی اور محاذ آرائی کی متحمل نہیں ہوسکتی کیونکہ افغانستان میں جو متعدد عسکری گروہ موجود ہیں داعش سمیت ان میں ٹی ٹی پی سب سے مضبوط اور طاقتور ہے جو دیگر گروپوں خصوصاً داعش کے ساتھ مل کر افغان حکومت کا صفایا کرسکتی ہے۔ داعش کو افغان حکومت پاکستان حمایت یافتہ سمجھتی ہے۔ یہ ایک پیچیدہ صورتحال ہے۔

دوسری پیچیدگی اس مسئلے میں یہ ہے کہ اگر افغان حکومت ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو خود افغان حکومت میں ٹوٹ پھوٹ ہوسکتی ہے اور ان کے اپنے لوگ انہیں چھوڑ کر ٹی ٹی پی کے ساتھ مل سکتے ہیں۔ ٹی ٹی پی اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے یہی وجہ ہے کہ افغان حکومت پاکستان کی بات سن تو لیتی ہے لیکن کسی بھی عملی اقدام سے گریزاں رہتی ہے۔ وہ پاکستان کو کبھی داعش کی حمایت کے غلط طور پر طعنے دیتی ہے، کبھی دہشت گردی کو پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیتی ہے جس سے پاکستان کو خود نمٹنا ہے اور کبھی خاموشی اختیار کرلیتی ہے۔ اس مرتبہ ایک قدم آگے بڑھ کر دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے کے مصداق امیر متقی بھارت جاکر بیٹھ گئے جس کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپوں کا آغاز ہوگیا۔

بھارت کی پشت پناہی افغان حکومت کی بصارت کی آئینہ دار ہے اور نہ بصیرت کی۔ جس سے نہ انہیں کچھ حاصل ہوگا اور نہ بھارت کو۔ داعش نے ہندو ریاست سے ہاتھ ملانے پر جس پر افغان حکومت کو لعن طعن کی ہے۔ بھارت سوائے مالی امداد اور پاکستان کے خلاف مسلسل اکسانے کے افغان حکومت کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ بھارت جس طرح پاکستان کے خلاف ایک اور حملے کی تیاری کررہا ہے افغانستان کے ساتھ پاکستان کی سرحد کا گرم ہوجانا اس کے لیے بہت حوصلہ افزا ہے۔ افغانستان اور بھارت دونوں کی مشترکہ کوشش ہے کہ پاکستان مشرق اور مغرب دونوں سرحدوں پر برسر جنگ رہے۔ اللہ رحم کرے۔ یہ معاملہ جلد ختم ہوتا نظر نہیں آرہا۔

بابا الف سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: افغان حکومت کا اور افغانستان کہ افغان ٹی ٹی پی یہ ہے کہ کے ساتھ کے خلاف ہے کہ ا کے لیے ہے اور رہا ہے

پڑھیں:

حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔ 

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف