Jasarat News:
2026-07-24@01:48:02 GMT

ڈی جی آئی ایس پی آر کے خیالات

اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251201-03-2
یہ خطہ اپنے جغرافیے، تاریخ اور سیاسی حرکیات کے باعث ہمیشہ عالمی طاقتوں کی دلچسپی کا مرکز رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہاں کے حالات کبھی یک سمت نہیں رہے۔ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف ایک طویل جنگ لڑ چکا ہے اور اب بھی لڑ رہا ہے۔ ان حالات میں پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی جانب سے سینئر صحافیوں کو ملکی سلامتی کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ افغانستان کی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ہونا ایک تلخ مگر کھلی حقیقت ہے، جسے نظر انداز کرنا قومی مفاد کے منافی ہوگا، مگر اس کے پیچھے وہ کچھ بھی ہے جس کا کہیں ذکر نہیں ہے گزشتہ برسوں میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ امید کی جارہی تھی کہ اب کم از کم پاکستان کی سلامتی کو لاحق خطرات کم ہوں گے، لیکن عملی صورت حال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ طالبان حکومت کا یہ مؤقف کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے عناصر ان کے ’’مہمان‘‘ ہیں اور ہجرت کرکے افغانستان آئے ہیں، کسی منطق یا اصول کے تحت درست نہیں ٹھیرتا۔ اس میں کوئی دو بات نہیں کہ مہمان وہ ہوتے ہیں جو میزبان ملک کے قوانین کا احترام کریں، اس کے امن کو خطرے میں نہ ڈالیں اور ہتھیار اٹھاکر ہمسایہ ملک میں داخل نہ ہوں۔ اگر یہ لوگ پاکستانی ہیں تو پاکستان کا حق ہے کہ انہیں قانون کے مطابق اس کے حوالے کیا جائے تاکہ عوام کے خون سے کھیلنے والے عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ لیکن پاکستان کی طرف سے بھی جس قسم کی زبان استعمال کی جارہی ہے وہ ایسا لگتا ہے کوئی ایک خاص حکمت عملی کے تحت افغان قیادت کو پاکستان سے متفر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے سینئر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ یہ بھی ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ امریکا اور ناٹو افواج نے افغانستان سے انخلا کے وقت جو اسلحہ وہاں چھوڑا، وہ آج دہشت گرد گروہوں کے پاس ہے۔ 7 ارب 20 کروڑ ڈالر کا یہ جدید اسلحہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں استعمال ہو رہا ہے۔ اس اسلحے کے ذریعے پاکستان کے عوام اور سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ معاملہ محض کسی ایک تنظیم یا چند عناصر تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک منظم نیٹ ورک ہے جو افغانستان کی سرزمین سے کام کرتا ہے۔ ڈی جی کے مطابق یہاں یہ بات قابل ِ غور ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بارڈر مینجمنٹ دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح مشترکہ ذمے داری ہونی چاہیے، لیکن موجودہ حالات میں طالبان حکومت اس ذمے داری سے پہلو تہی کرتی نظر آتی ہے۔ نہ صرف بارڈر پر مؤثر نگرانی کی کمی ہے بلکہ دہشت گرد عناصر کو کسی نہ کسی درجے کی سہولت کاری بھی میسر آتی دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان نے متعدد بار افغان حکام کو دہشت گردوں کے مراکز، ان کی قیادت، مالیاتی ذرائع اور حملوں کے شواہد پیش کیے، جو نہ صرف اقوامِ متحدہ بلکہ عالمی ثالثی اداروں کے علم میں بھی لائے گئے۔ پاکستان نے یہ بھی کہا کہ اگر ایک قابل ِ تصدیق میکانزم تشکیل پاتا ہے اور اس میں کسی تیسرے فریق کی شمولیت ضروری ہو تو پاکستان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں، کیونکہ مقصد صرف ایک ہے اور وہ دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔

اس سارے منظر نامے میں اور ڈی آئی ایس پی آر کی بریفنگ میں یہ بات بھی اہم ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف نہیں لڑنا چاہیے۔ مسلمانوں کو باہمی دشمنی میں مبتلا کرنا سامراجی طاقتوں کا پرانا طریقہ ہے۔ خطے کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے اندرونی اختلافات کو ہوا دی، بیرونی قوتوں نے اس کا فائدہ اٹھایا۔ پاکستان اور افغانستان دو مسلمان، ہمسایہ اور تاریخی رشتوں میں جڑے ہوئے ممالک ہیں۔ ان کے درمیان بداعتمادی بڑھانا، انہیں ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنا، یا غلط فہمیاں پیدا کرنا بیرونی قوتوں کا مفاد ہے اور وہ اس کام میں برسوں سے لگے ہوے ہیں، اسی تناظر میں بھارت کا کردار بھی سامنے آتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بجا طور پر کہا کہ بھارت کبھی مسلمانوں کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا۔ یہی بات افغان طالبان کے علم میں ہونا ضروری ہے کہ بھارت نہ تو افغانستان کے عوام کا دوست ہے اور نہ ہی پاکستان کے لیے کسی مثبت کردار کا خواہاں ہے۔ بھارت کا مقصد ہمیشہ خطے میں انتشار کو بڑھانا اور پاکستان کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنا رہا ہے۔ اس کے لیے کبھی پروپیگنڈا، کبھی دہشت گرد عناصر کی مالی معاونت اور کبھی سفارتی محاذ پر پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ افغان طالبان اگر سمجھتے ہیں کہ بھارت ان کا سچا ساتھی ہے، تو یہ ان کی تاریخ فہمی کی غلطی ہے۔ بھارت کبھی نہ افغانستان کے مزاحمتی گروہوں کا دوست رہا ہے، نہ آج ہو سکتا ہے، اور نہ مستقبل میں ہوگا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس طرف بھی اشارہ کیا کہ بھارت کی خود فریبی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ بھارتی آرمی چیف کی جانب سے بعض آپریشنز کو ’’ٹریلر‘‘ قرار دینا حقیقت سے منہ موڑنے کے مترادف ہے۔ یہ ٹھیک کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ ہماری آزادی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا۔ ہم نے قربانیاں اس لیے نہیں دیں کہ کوئی دہشت گرد گروہ، کوئی بیرونی طاقت یا کوئی منفی نیٹ ورک ہمارے اندر انتشار پھیلائے۔ لیکن یہ بات سمجھنے کی ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کا نقصان زیادہ پاکستان کو ہی ہوگا جذبات کی باتیں اپنی جگہ لیکن ایک مکار دشمن کے ساتھ دوسرا دشمن پیدا کرنا کہیں کی عقل مندی نہیں ہے، پاکستان اور افغانستان دونوں کے عوام امن چاہتے ہیں، ترقی چاہتے ہیں، خوشحالی چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل طے کریں۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی ترک کریں، غلط فہمیوں کو کم کریں اور اس خطے کو مزید کسی پراکسی جنگ کا میدان نہ بننے دیں۔ یہ وقت اس بات کا ہے کہ ہمسایہ ممالک حقائق کا سامنا کریں۔ امن صرف خواہش سے نہیں بلکہ عملی اقدامات، اعتماد سازی اور مشترکہ کوششوں سے قائم ہوتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ افغان عوام کے لیے خیر خواہی کا کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی کرے گا، لیکن کسی بھی صورت دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ خطہ اس وقت نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ یہ فیصلہ اب ہم سب نے مل کر کرنا ہے کہ ہمیں انتشار کی طرف جانا ہے یا امن و استحکام کی طرف۔ اس وقت امن، استحکام، باہمی احترام اور مشترکہ ذمے داری۔ یہی راستہ خطے کے مستقبل کی ضمانت ہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان اور افغانستان ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر پاکستان کو پاکستان کے کہ بھارت کے خلاف ہے اور کی طرف کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار