آئی ایم ایف کی 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط دسمبر تک ملنے کی توقع ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پاکستان کے قومی مفادات کے خلاف کوئی شرط عائد نہیں کر سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے جاری تمام معاشی اصلاحات پاکستان کی اپنی ترجیحات کے مطابق کی جا رہی ہیں۔
واشنگٹن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ’آئی ایم ایف کوئی ایسی شرط نہیں رکھ سکتا جو پاکستان کے قومی مفاد کے منافی ہو۔‘ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کیے گئے اصلاحاتی اقدامات نے معیشت کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سعودی ہم منصب سے ملاقات، پی آئی اے اور ایئرپورٹ کی نجکاری سے متعلق بریفنگ
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کو دسمبر 31 تک آئی ایم ایف کی اگلی قسط، 1.
انہوں نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ تجارت اور ٹیرف سے متعلق ایک معاہدہ آئندہ 2 ہفتوں میں متوقع ہے جبکہ حکومت نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری سے متعلق فیصلے کے قریب پہنچ چکی ہے۔
دورہ امریکہ کے آخری روز وزیر خزانہ نے بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن (IFC) کے مینیجنگ ڈائریکٹر مکھتار دیوپ کی موجودگی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور آئی ایف سی کے درمیان کرنسی سویپ معاہدے کی دستخطی تقریب میں بھی شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ایم ایف محمد اورنگزیب وزیر خزانہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف محمد اورنگزیب محمد اورنگزیب آئی ایم ایف نے کہا
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔