ہوٹل کے کمرے میں جنات تھے، اداکارہ حرا سومرو نے دل دہلا دینے والا واقعہ سُنا دیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
پاکستانی اداکارہ حرا سومرو نے ناران میں جنات کی موجودگی سے متعلق حیران کن دعویٰ کیا ہے۔
ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں حرا سومرو نے بتایا کہ انہیں ناران کے ایک ہوٹل میں قیام کے دوران غیر معمولی واقعات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد انہیں یقین ہوگیا کہ اس علاقے میں جنات موجود ہیں۔
حرا سومرو نے میزبان کے سوال پر قسم کھا کر کہا کہ وہ سو فیصد یقین سے کہہ سکتی ہیں کہ ناران ایک ’بھاری جگہ‘ ہے اور وہاں جنات بستے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص ناران کے کسی ہوٹل میں عجیب و غریب واقعات محسوس کرے تو یہ اس کا وہم نہیں بلکہ وہاں واقعی کچھ ایسی طاقتیں موجود ہیں۔
اداکارہ نے بتایا کہ ناران میں ہوٹل میں قیام کے دوران ان کے کمرے کا دروازہ بار بار خود بخود کھلتا اور بند ہوتا رہا جبکہ وہاں کوئی نہیں تھا نہ ہی ہوا کا گزر تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ناران کے ہوٹلوں میں پنکھے نہیں ہوتے، اس لیے ذرا سی حرکت یا آواز بھی واضح سنائی دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ انہیں دو مرتبہ انہیں اپنے واش روم میں فلیش کی آواز بھی صاف سنائی دی، حالانکہ وہاں کوئی موجود نہیں تھا جس کی وجہ سے وہ بےحد ڈر گئی تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔