Express News:
2026-06-03@05:59:06 GMT

کرکٹ بورڈ کی ٹیم بھی اچھی بنائیں

اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT

پاکستان کرکٹ بورڈ کے بعض ایسے افسران ہیں جنھیں کوئی بھی چیئرمین آئے عہدے سے ہٹا نہیں پاتا، وہ خود کو ناگزیر بنا کر پیش کرتے ہیں، جیسے اگر وہ نہ ہوں تو کام چوپٹ ہوجائے۔

کئی کی پشت پر بعض بڑی سیاسی شخصیات کا بھی ہاتھ ہے، کسی کو انگریزی میں عبور پر ناز ہے تو کوئی قانونی داؤ پیچ بتا کر خود کو ’’مین آف کرائسس‘‘ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ چونکہ بیشتر بورڈ سربراہان کے اپنے لائے ہوئے لوگ اتنے قابل نہیں ہوتے اس لیے تنگ آکر انھیں ایسے ہی پرانے آفیشلز سے کام کرانا پڑتا ہے۔ وہ ہر دور میں ہی ریلیونٹ رہتے ہیں، البتہ محسن نقوی کا معاملہ الگ ہے۔

میں نے اپنے صحافتی کیریئر میں اتنا طاقتور چیئرمین نہیں دیکھا، ان کے سامنے اگر کوئی سیاسی سفارش لائے تو بھی کامیاب ہونا ممکن نہیں ہے۔ وہ کام کو ترجیح دیتے ہیں اور ماضی کے بورڈ چیف جو سوچ بھی نہیں سکتے وہ محسن نقوی کرچکے ہیں۔ ان میں بھارتی کرکٹ بورڈ کو بیک فٹ پر بھیجنا سب سے اہم ہے۔

کسی بھی کرکٹ بورڈ میں سب سے اہم پوسٹ سی ای او یا سی او او کی ہوتی ہے۔ موجودہ دور میں اس کی اہمیت یوں بڑھ چکی کہ چیئرمین اپنی وزارت کے امور میں بھی مصروف رہتے ہیں۔ سلمان نصیر کو سی او او سے ہٹا کر پی ایس ایل میں بھیجا گیا اور وہ جس انداز میں کام کر رہے ہیں اس بارے میں مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ سمیر سید اپنی کوشش تو کر رہے ہیں، البتہ سلمان اب بھی آئی سی سی اور اے سی سی کے معاملات دیکھنے کی وجہ سے بورڈ میں خاصا اثرورسوخ رکھتے ہیں۔ اس سے تھوڑی کنفیوژن بھی ہوجاتی ہے۔ ظاہر ہے سب کچھ چیئرمین نہیں کرسکتا۔ اسی لیے اب اپنی ٹیم میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ آغاز ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ عثمان واہلہ سے ہوگا۔ وہ برسوں سے پی سی بی میں ہیں، مختلف عہدوں پر کام کرتے رہے، ایشیا کپ میں جب ’’ہینڈ شیک‘‘ تنازع ہوا تو انھیں معطل کردیا گیا۔

یہ درست ہے اس معاملے کو بہتر انداز میں دیکھنا چاہیے تھا لیکن سستی برتی گئی۔ بعض حلقوں کے مطابق عثمان کو لگتا ہے کہ کسی ’’قریبی شخصیت‘‘ نے ان کو معطل کروانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز سے قبل بحال ہوئے۔ اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ ان کی معطلی کسی ایس ایچ او کی طرح ہے جو کسی بڑے واقعے پر معطل ہو کر پھر چند روز بعد بحال ہوجاتا ہے۔ البتہ اب پی سی بی نے اس پوزیشن کےلیے اشتہار جاری کردیا۔ اس سے لگتا ہے کہ یا تو گھر جانا ہوگا یا کسی اور شعبے میں ٹرانسفر ہوجائے گا۔ اشتہار میں شرط لکھی ہے کہ امیدوار کا ٹیسٹ یا انٹرنیشنل کرکٹر ہونا لازمی ہے، گریجویٹ ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ وہاب ریاض گریجویٹ ہیں یا نہیں میں نہیں جانتا۔

ملک میں پڑھے لکھے انٹرنیشنل کرکٹرز کم ہی ہیں لیکن جو بھی آئے اسے کام میں ماہر ہونا چاہیے۔ وہ نہ صرف آج کیا ہو رہا ہے اسے دیکھے، بلکہ کل پر بھی نظر ہو، جیسے افغانستان کا معاملہ ہے۔ کوئی بھی یہ بات سمجھ سکتا تھا کہ موجودہ حالات میں افغان ٹیم پاکستان نہیں آئے گی۔ ایسے میں کیا یہ اچھا نہیں ہوتا کہ ہم پہلے ہی خود ٹرائنگولر سیریز سے اسے باہر کردیتے۔ چلیے میں یہ دلیل مان لیتا ہوں کہ ہم ہمیشہ کھیل اور سیاست کو الگ رکھنے کی بات کرتے ہیں۔ اگر ایسا کرتے تو اپنی ہی پالیسی کے خلاف جانا پڑتا، البتہ یہ تو ممکن تھا کہ ٹرائنگولر سیریز کو ہی چند ماہ کےلیے موخر کرنے کا اعلان کر دیا جاتا کہ موجودہ حالات میں ایونٹ کا انعقاد ممکن نہ ہوگا۔ اس سے افغانستان اور بھارت کو ہمارے خلاف ڈرامہ رچا کر پاکستان کو بدنام کرنے کا موقع نہ ملتا، نہ ہی عالمی میڈیا اسے اتنی توجہ دیتا۔

آئی سی سی نے پاکستان میں کبھی کسی واقعے پر بھارت یا افغانستان کے خلاف کوئی پریس ریلیز کی؟ کبھی نہیں! لیکن حالیہ واقعے پر فوراً ایسا کردیا۔ وجہ بھارتی حکومت، آئی سی سی اور افغان بورڈ کا گٹھ جوڑ بنی۔ آئندہ ماہ آئی سی سی کی میٹنگ میں بھارت ایشیا کپ کا معاملہ اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پی سی بی نے اس حوالے سے کیا پالیسی بنائی ہے؟

میرا چیئرمین بورڈ کو یہ مشورہ ہے کہ ایک اچھی ٹیم بنائیں جس میں کام سے مخلص افراد کو رکھا جائے۔ موجودہ آفیشلز کئی معاملات میں ’’چیئرمین نے کہا ہے‘‘ کہہ کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ لائیں جو اپنے فیصلوں کو اون کریں، میڈیا ڈپارٹمنٹ میں عامر میر اور رفیع اللہ عمدگی سے خدمات نبھا رہے ہیں، ان کی مدد کےلیے رضا راشد جیسے محنتی پرانے آفیشلز بھی موجود ہیں، دیگر شعبوں میں بھی ایسے ہی لوگ آنے چاہئیں۔

محسن نقوی وہ بندہ ہے جس نے اکیلے بھارت کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ ان کی ٹیم ایشیا کپ جیت کر ٹرافی کےلیے منتیں کر رہی ہے، ہائبرڈ ماڈل بھی بی سی سی آئی کو ماننا پڑا، اب برابری کی سطح پر بات ہوتی ہے۔ البتہ چیئرمین کو بورڈ میں بہترین ٹیم درکار ہوگی، جتنے اختیارات انھیں حاصل ہیں ماضی میں کسی کو نہیں تھے۔ حکومت کی کوئی مداخلت نہیں، سابق کرکٹرز اور میڈیا بھی ہلکا ہاتھ رکھتے ہیں، ایسے میں ان کو سنہری موقع ملا ہے کہ پی سی بی کو زبردست ادارہ بنا دیں، اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو شاید کوئی اور بھی کامیاب نہیں ہوگا۔

اس وقت ہمیں کرکٹ میں بھی کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ آئی سی سی عملاً انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے بجائے انڈین کرکٹ کونسل بن چکی ہے۔ بھارت نے افغانستان کو کرکٹ میں بھی ساتھ ملا لیا ہے۔ ہمارے کھلاڑیوں پر بھارتی اونرز کی وجہ سے لیگز کے دروازے بھی بند ہو رہے ہیں۔ ہمیں پی ایس ایل کو مضبوط بنانا ہوگا۔ صرف آئی سی سی پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے ذرائع آمدنی بھی تلاش کرنا ہوں گے۔ اس کےلیے اچھی مارکیٹنگ کی ٹیم بنانی چاہیے۔ جس طرح کرکٹ ٹیم میں تبدیلیوں کی بات ہوتی رہتی ہے، چیئرمین کو بورڈ میں بھی کرنی چاہیے۔ ٹیم اچھی نہ ہو تو بابراعظم بھی کپتان بن کر کچھ نہیں کرسکتا۔ آف دی فیلڈ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انٹرنیشنل کرکٹ کرکٹ بورڈ پی سی بی میں بھی رہے ہیں

پڑھیں:

کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟

مراد راس صاحب سابق صوبائی وزیر ہیں، لاہور سے 2 بار رکن اسمبلی رہے۔ پہلے تحریک انصاف سے تعلق تھا، انہی کے دور میں صوبائی وزارت ملی۔ اب تحریک استحکام پاکستان میں شامل ہیں۔ ان کے بارے میں عمومی تاثر یہی تھا کہ پڑھے لکھے آدمی ہیں، نام کےساتھ ڈاکٹر بھی لگتا ہے، معلوم نہیں ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں یا پی ایچ ڈی۔

بہرحال ان کے حالیہ ٹوئٹ نے ہر ایک کو حیران کر دیا۔ موصوف نے ٹوئٹ کیا، ‘لاہور ان عید کی چھٹیوں میں بہت پرسکون تھا، خاص کر ٹریفک بہت کم تھی۔ یہ آؤٹ سائیڈرز ہیں جنہوں نےلاہور تباہ کیا ہے‘۔

بات سادہ ہے مگر غلط ہے، بلکہ بہت غلط ہے۔ نرم سے نرم الفاظ میں اس  ٹوئٹ کو غیر ذمہ دارانہ، افسوسناک اور تکلیف دہ کہا جا سکتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ ٹوئٹ کرنے والا شخص پڑھا لکھا نہیں، اسےدنیا کا قطعی علم نہیں، کسی بھی بڑے بین الاقوامی شہر کا تو شاید اس نے نام بھی نہیں سنا۔ سب سےبڑھ کر یہ کہ اسے لاہور کی ہسٹری کا بھی کچھ نہیں پتا۔

یہ بھی پڑھیں: بڑے شہر نگل جاتے ہیں

خاکسار معروف معنوں میں لاہوری نہیں، آبائی شہر احمدپورشرقیہ، ضلع بہاولپور ہے۔ تاہم میں 31،32 برسوں سے لاہور میں مقیم ہوں، میرے بچے یہیں پیدا ہوئے، یہیں پر پلے بڑھے ہیں، الحمدللہ۔ میں کوئی 10، 12 برسوں سےہر عید لاہور ہی میں کرتا ہوں۔ اپنے آپ کو لاہوری تصور کرتا ہوں، اس لیے کہ اس شہر نے مجھے بے پناہ محبت، عزت دی۔ جو تھوڑی بہت پہچان ہے، وہ بھی اسی شہر کی مرہون منت ہے۔ لاہور کی سب سے خوبصورت بات یہاں کے مکین یعنی لاہوری ہیں۔ جتنی اوپن نیس، کشادگی اور کھلا ڈلا پن میں نے لاہوریوں میں دیکھا، اس کی مثالیں کم ملتی ہیں۔ باہر سے آنے والوں کو یہ باہیں پھیلا کر قبول کرتے اور اپنے دل میں سمو لیتےہیں۔

ایسے میں بہت افسوسناک امر ہے کہ ڈاکٹر مراد راس جیسے لوگ جو گجرات میں پیدا ہونے کی وجہ سے گجراتی شناخت بھی رکھتے ہیں، پرانےلاہوریے نہیں ، اپنے ایک نفرت انگیز ، متعصبانہ ٹوئٹ کی وجہ سے پورے لاہور شہر کے مکینوں کی بدنامی کا باعث بنے ہیں۔ مراد راس کا یہ ٹوئٹ لاہور اور لاہوریوں کی ترجمانی نہیں کرتا۔

مزید پڑھیے: نریندر مودی صحافیوں سے کیوں خوفزدہ ہیں؟

چلیں بات شروع ہوئی ہے تو ویسے ہی اس کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں کہ لاہور کو وہ لاہور بنایا کس نے ہے جس پر اس کی دنیا بھر میں دھوم ہے۔ سب سےبڑا سہرا تو مغلوں کے سر جاتا ہے جو سمرقند اور کابل سے آئے تھے۔ مقبرہ جہانگیر، کامران کی بارہ دری، شالیمار باغ، مسجد وزیر خان وغیرہ کس نے بنائے؟باہر سے آنے والے مغلوں نے ۔انارکلی بازار کا نام کس کے نام پر ہے؟ ایک ایسی لڑکی کے نام پر جو اس شہر کی اصل باشندہ بھی نہیں تھی۔ لاہور کا مال روڈ، جی پی او، ہائی کورٹ، شہر کا سب سے حسین سرسبز علاقہ ماڈل ٹاؤن، یہ سب ’باہر والوں‘ نے بنائے۔ یہ سب باہر سے آئے اوراس شہر کو اپنے خون پسینے سے تعمیر کر گئے۔ لاہور کے کھانوں، کلچر میں بہت بڑا حصہ کشمیریوں کا ہے۔ یہ کشمیر سے لاہور اور امرتسر میں آ کر آباد ہوئے۔ تقسیم کے بعد امرتسری(امبرسری) کشمیری  مسلمان بھی لاہور آ گئے اور آج امبرسریوں کےکھابے ملک بھر میں مشہور ہیں۔

اب ذرا دنیا کو دیکھیں۔

یورپ کے سب سے اہم شہر لندن کا میئر آج صادق خان ہے، پاکستانی نژاد، جنوبی لندن کے ایک بس ڈرائیور کا بیٹا۔ لندن والے اس پر فخر کرتے ہیں کیونکہ ان کا شہر ہمیشہ سے باہر سے آنے والوں کا گھر رہا ہے۔ رومن آئے، نارمن آئے، فرانسیسی آئے، یہودی آئے، ہندوستانی آئے، پاکستانی آئے، ہر آنے والے نے اس شہر میں کچھ جوڑا۔ اگر لندن نے کسی موڑ پر یہ سوچ لیا ہوتا کہ ’باہر والوں نے ہمیں خراب کر دیا‘ تو آج وہ ایک گمنام صوبائی قصبہ ہوتا، دنیا کا مالیاتی مرکز نہیں۔

نیویارک کو دنیا سٹی آف امیگرنٹس کہتی ہے۔ اب تو اس کا میئر ظہران ممدانی بھی ایک امیگرنٹ ہی ہے۔ وہاں ایلس آئی لینڈ پر ایک میوزیم ہے جو ان لاکھوں تارکین وطن کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جو یورپ، ایشیا، افریقہ سے جہاز پر سوار ہو کر آئے اور امریکا کو امریکا بنایا۔ انہیں شرمندگی نہیں دلائی گئی، ان کی قربانی کو سنہری حروف میں لکھا گیا۔ نیویارک کی وہ عمارتیں جنہیں آج دنیا دیکھتی ہے، ان کی ایک ایک اینٹ کے پیچھے کسی ’باہر والے‘ کا پسینہ ہے۔

دبئی کی مثال اور بھی چونکا دینے والی ہے۔ وہاں اصل اماراتی شہری آبادی کا صرف 10 سے 15 فیصد ہیں۔ 85 سے 90 فیصد لوگ ’باہر والے‘ ہیں، پاکستانی، ہندوستانی، فلپینی، بنگلہ دیشی، یورپی۔ دبئی نے انہیں دھتکارا نہیں، خوش آمدید کہا۔ نتیجہ سامنے ہے، ریت کے ایک ٹیلے پر کھڑا ہونے والا شہر آج دنیا کا سب سے چمکدار شہر ہے۔ اگر عرب امارات کے بادشاہوں  نے بھی یہ سوچا ہوتا کہ باہر والے ہمیں خراب کریں گے تو دبئی آج وہ ترقی یافتہ دبئی نہ ہوتا۔

واپس لاہور آتے ہیں۔

آج لاہور میں جو کاروبار ہے، جو محنت ہے، جو تعمیر ہے، اس میں گوجرانوالہ،  گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، جھنگ، ڈیرہ غازی خان سے آنے والوں کا حصہ اتنا ہی ہے جتنا کسی نسل در نسل لاہوری کا۔ وہ مزدور جو ڈیفنس کی کوٹھیاں بناتا ہے، وہ ریڑھی والا جو گلبرگ کو پھل فروخت کرتا ہے، وہ درزی جو اقبال ٹاؤن، ٹاؤن شپ میں سلائی کرتا ہے، یہ سب ’باہر والے‘ ہیں۔ انہیں نکال دیں تو لاہور کی رونق ایک دن میں ختم ہو جائے۔

ایک بات اور۔ لاہور کا ٹریفک اور آلودگی عید پر اس لیے کم ہوئی کہ ’باہر والے‘ اپنے گھروں کو گئے۔ یعنی اصل مسئلہ آنے والوں کا نہیں، شہر کی ناقص منصوبہ بندی کا ہے۔ وہ منصوبہ بندی جو انہی ’اندر والے‘ حکمرانوں کی دین ہے جو دہائیوں سے لاہور پر راج کرتے آئے ہیں۔

آخری بات، مراد راس صاحب خود گجرات میں پیدا ہوئے، تعلیم امریکا میں حاصل کی، ان کی امریکی شہریت کی بات بھی چلتی رہی ہے۔ لاہور کی نشست سے سیاست کی۔ تو پھر وہ ’اندر والے‘ کیسے اور گجرات سے آنے والا مزدور ’باہر والا‘ کیسے؟

مزید پڑھیں: کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

شہر اینٹوں سے نہیں، لوگوں سے بنتے ہیں۔ اور لوگ ہر طرف سے آتے ہیں۔ یہی کسی شہر کی اصل دولت ہے۔ درحقیقت اہل دانش کہتےہیں کہ ترقی ہی وہ گلو یا گوند ہے جو باہر سےلوگوں کو، سرمایے کو اور اہل ہنر کو کھینچتی ہے۔ ترقی دراصل وہ گریوٹی ہے جو اپنی کشش اور قوت سے باہروالوں کو اندر لاتی ہے اور ان کی وجہ سے وہ شہر جگمگاتا ہے۔ جس شہر میں باہر سے لوگ جانا بند کر جائیں، وہ کسی کمھلائے ہوئے پھول کی طرح ہوجاتا ہے۔ پھر اسے زوال سے کوئی نہیں روک سکتا۔ کاش مراد راس جیسے لوگ قوت بینا رکھتے، دل کی آنکھیں ہی کھول کر جینا سیکھ لیتے۔ تب ایسی دل آزاری والے ٹوئٹ ہرگز نہ لکھے جاتے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

آؤٹ سائیڈرز احمد پور شرقیہ لاہور لاہور کس نے بنایا لاہور کے اندر والے باہر والے لندن کا میئر مراد راس نیویارک کا میئر

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • شاداب خان نے اچھی اننگ کھیلی ،وہ باؤلر سے اچھے آل راؤنڈر بن گئے ؛ مائیک ہیسن
  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی