ڈرگ ڈیلر کہنے پر کولمبیا کے صدر نے ٹرمپ کو کھری کھری سنا دیں
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
ڈرگ ڈیلر کہنے پر کولمبیا کے صدر نے ٹرمپ کو کھری کھری سنا دیں ، انہوں نے ٹویٹ میں کہا کہ تمہیں کولمبیا کے بارے میں کچھ نہیں معلوم، تمہیں انسانیت سیکھنے کیلئے ون ہنڈریڈ ائرز آف سولی ٹیوڈ نامی کتاب پڑھنی چاہئے ،میں تمھاری طرح کاروبار میں نہیں پڑا، میں منشیات ڈیلر تو کیا ایک بزنس مین بھی نہیں ہوں، میرے دل میں دولت کی کوئی ہوس نہیں ہے، میں ایک سوشلسٹ ہوں اور انسانیت اور سب سے زیادہ زندگی کا احترام کرتا ہوں، وہ زندگی جسے تمہارے تیل نے خطرے میں ڈال دیا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مزید کہا کہ امریکا نے کارابین کے علاقے میں ایک حملے کے دوران کولمبیا کے ایک ماہی گیر کو قتل کیا، حالانکہ امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ کشتی جو ایلخاندرو کی تھی، منشیات لے کر جا رہی تھی۔
جس پر امریکی صدر ٹرمپ نے کولمبیا کی امداد میں کٹوتی اور نئی ٹریفز عائد کرنے کی دھمکی دی۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کولمبیا نے منشیات کی پیداوار پر قابو پانے میں ناکامی کے باوجود امریکہ سے امداد حاصل کی ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس امداد کو روک دیا جائے۔
یاد رہے کہ یہ تنازع اُس وقت شروع ہوا جب ٹرمپ نے کولمبیا پر منشیات کی پیداوار پر قابو پانے میں ناکامی کا الزام عائد کیا اور پیٹرو کو ”غیر قانونی منشیات کے تاجر“ قرار دیا۔
کولمبیا کو اس وقت امریکا سے ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد مل رہی ہے، لیکن ٹرمپ کے حالیہ بیان اور امداد میں کٹوتیوں کی دھمکی کے بعد یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ کولمبیا میں امریکی امداد پر انحصار کرنے والے مختلف منصوبوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اور دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بگاڑ آ سکتا ہے۔
کولمبیا کی حکومت اور امریکی انتظامیہ دونوں ہی اس معاملے پر مزید ردعمل دینے کے لیے تیار ہیں، اور یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ دونوں ممالک اس تنازعے کو کس طرح حل کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کولمبیا کے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔