بھارت: پولیس رویے سے تنگ 24 خواجہ سراؤں نے اجتماعی طور پر زہر پی لیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں پولیس کے مبینہ ناروا رویے سے دلبرداشتہ ہو کر دو درجن کے قریب خواجہ سراؤں نے اجتماعی طور پر زہر پی کر خودکشی کی کوشش کی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ اندور شہر میں پیش آیا، جہاں سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں تقریباً 24 خواجہ سراؤں کو ایک ساتھ زہریلا فنائل پیتے دیکھا جا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق خواجہ سرا اپنے ساتھی کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ جنسی زیادتی کے واقعے پر انصاف کے مطالبے کے لیے احتجاج کر رہے تھے، تاہم پولیس کی جانب سے کارروائی نہ ہونے پر انہوں نے انتہائی قدم اٹھایا۔
تمام متاثرہ خواجہ سراؤں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی حالت خطرے سے باہر قرار دی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کی تلاش جاری ہے اور گرفتاری کے بعد مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس واقعے کے بعد بھارت کے مختلف شہروں میں خواجہ سرا کمیونٹی کی جانب سے انصاف کے مطالبات میں شدت آ گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خواجہ سراؤں
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔