بولیویا میں روڈریگو پاز صدر منتخب، دائیں بازو کی حکومت 19 سال بعد واپس
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
بولیویا میں دائیں بازو کے معتدل رہنما اور سینیٹر روڈریگو پاز نے اتوار کے روز ہونے والے صدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔
سپریم الیکٹورل ٹریبونل کے ابتدائی نتائج کے مطابق، کرسچیئن ڈیموکریٹک پارٹی کے 58 سالہ روڈریگو پاز نے 54.6 فیصد ووٹ حاصل کیے۔
یہ بھی پڑھیں: بولیویا میں فوجی بغاوت ناکام، باغی آرمی چیف کی گرفتاری پر عوام خوشی سے سڑکوں پر نکل آئی
واضح رہے کہ جنوبی امریکا کے اس ملک کے 65 لاکھ سے زائد ووٹروں نے اتوار کو اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
Bolivians elected Rodrigo Paz as president on Sunday, selecting the center-right senator and economist to address the country's worst economic crisis in 40 years.
— Politiko (@Politiko_Ph) October 20, 2025
روڈریگو پاز، سابق صدر جےمی پاز زامورا کے بیٹے ہیں، جنہوں نے 1989 سے 1993 تک ملک کی قیادت کی تھی۔
پاز نے اگست کے وسط میں ہونے والے ابتدائی صدارتی انتخاب میں غیر متوقع طور پر برتری حاصل کی تھی، جبکہ اس وقت نیشنل یونٹ فرنٹ پارٹی کے امیدوار سیموئل ڈوریا میدینا کے جیتنے کی توقع کی جا رہی تھی۔
اتوار کا رن آف اس لیے ہوا کہ اگست کے انتخاب میں نہ پاز اور نہ ہی کیروگا براہِ راست اکثریت حاصل کر سکے تھے۔
مزید پڑھیں: وینزویلا کے متنازع صدارتی انتخابات میں نکولس مادورو کی فتح کے بعد احتجاجی مظاہرے شروع
چونکہ دونوں امیدوار قدامت پسند نظریات رکھتے تھے، اس لیے اس انتخاب کے نتیجے میں بولیویا کو 2006 کے بعد پہلی مرتبہ دائیں بازو کی حکومت ملی ہے۔
2006 میں بولیویا نے یونین رہنما ایوو مورالس کو ملک کا پہلا مقامی صدر منتخب کیا تھا، جو 2019 میں انتخابی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کے بعد مستعفی ہو گئے تھے۔
جارج کیروگا نے نتائج واضح ہونے کے بعد فیس بک پر اپنی پوسٹ میں مشترکہ طور پر آزاد بولیویا کے لیے جدوجہد کا اعادہ کیا۔
’ہم یہاں تھے، یہاں ہیں اور یہاں رہیں گے۔ شکریہ! ہم ایک آزاد بولیویا کے لیے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔‘
مزید پڑھیں:لاطینی امریکا کے رہنما اسرائیل مخالف مؤقف کیوں اپناتے ہیں؟
روڈریگو پاز نے اپنی انتخابی مہم ’سرمایہ داری، سب کے لیے‘ کے نعرے کے تحت چلائی، جس میں بازار پر مبنی معیشت کے قیام کا وعدہ کیا گیا۔
کیروگا نے بھی اپنی مہم میں نجی ملکیت اور مارکیٹ اکانومی کی حمایت کی تھی۔
انتخابات ایسے وقت میں ہوئے جب بولیویا کو معاشی بحران کا سامنا ہے، اور عوام نے سوشلسٹ جماعت ’موومنٹ ٹوارڈز سوشلزم‘ کو مسترد کر کے بائیں بازو کی سیاست سے دوری اختیار کی ہے۔
چلی کے صدر گیبریل بورک فونت نے روڈریگو پاز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بولیویا کے نو منتخب صدر روڈریگو پاز کو ان کی کامیابی پر اور بولیویا کے عوام کو ان کی جمہوری شرکت پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
’چلی سے ہم اپنے برادر ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔‘
مزید پڑھیں:
اسی طرح امریکی کانگریس مین کارلوس گیمنیز کا کہنا ہے کہ کہ بولیویا نے روڈریگو پاز کے انتخاب کے ساتھ سوشلسٹ دور کا خاتمہ کر دیا ہے۔
’میں بولیویا کی نئی حکومت کے لیے کامیابی کی دعا کرتا ہوں تاکہ وہ ملک میں آزادی، خوشحالی اور جمہوری اقدار کو بحال کرے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بولیویا جنوبی امریکا دائیں بازو روڈریگو پاز سرمایہ داری سوشلسٹ صدارتی انتخابات کرسچیئن ڈیموکریٹک پارٹی مارکیٹ اکانومی نیشنل یونٹ فرنٹ پارٹی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بولیویا جنوبی امریکا سرمایہ داری صدارتی انتخابات مارکیٹ اکانومی نیشنل یونٹ فرنٹ پارٹی صدارتی انتخاب کے لیے پاز نے کے بعد
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔