سینٹورس مال کے رہائشی ٹاور میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی، 2 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے شاپنگ مال سینٹورس کے رہائشی ٹاور میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کا واقعہ پیش آیا ہے۔
خاتون نے 15 پر کال کرکے پولیس کو واقعے کی اطلاع دی، جس کے بعد مارگلہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 2 ملزمان کو حراست میں لے لیا۔
اسلام آباد کے سینٹورس مال کے ٹاور میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی، تحقیقات جاری pic.
— Muqadas Farooq Awan (@muqadasawann) October 21, 2025
پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں، جبکہ متاثرہ خاتون کا پمز اسپتال میں طبی معائنہ جاری ہے۔
پولیس کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی افسران موقع پر پہنچ گئے، اور ابتدائی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے، اور ملزمان سے تفتیش جاری ہے۔
ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ درج کیا جا رہا ہے، جس کے بعد تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسلام اباد اسلام آباد پولیس خاتون سے زیادتی وفاقی دارالحکومت وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد اسلام ا باد پولیس خاتون سے زیادتی وفاقی دارالحکومت وی نیوز خاتون سے
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔