پنجاب میں پہلا موبائل پولیس اسٹیشن اور لائسنسنگ یونٹ متعارف – عوام کو سہولت کی نئی منزل
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کے پہلے *موبائل پولیس اسٹیشن اینڈ لائسنسنگ یونٹ* کا افتتاح کرتے ہوئے ایک اور عوام دوست اقدام کی بنیاد رکھ دی ہے۔ اس منفرد منصوبے کا مقصد شہریوں کو ان کی دہلیز پر فوری اور آسان پولیس سروسز فراہم کرنا ہے۔
یہ موبائل یونٹ جدید سہولیات سے آراستہ ہے، جہاں شہری نہ صرف ایف آئی آر کا اندراج کروا سکیں گے بلکہ ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء اور تجدید کی سہولت بھی حاصل ہوگی۔ افتتاح کے موقع پر وزیراعلیٰ نے یونٹ کا تفصیلی معائنہ کیا اور عملے کو باضابطہ طور پر چابیاں سپرد کیں۔
مریم نواز شریف نے موبائل یونٹ کے عملے سے گفتگو کرتے ہوئے زور دیا کہ عوام سے خوش اخلاقی اور ہمدردی کے ساتھ پیش آئیں تاکہ پولیس کا مثبت چہرہ اجاگر ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ یونٹ خاص طور پر لڑکیوں کے تعلیمی اداروں اور ورکنگ ویمن کے لیے نہایت معاون ثابت ہوں گے، جہاں خواتین با آسانی اور باعزت طریقے سے اپنی ضروریات پوری کر سکیں گی۔
یہ اقدام نہ صرف پولیس سروسز کو مزید قابل رسائی بنائے گا بلکہ عوام کے اعتماد میں اضافے کا باعث بھی بنے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
اسلام آباد (رضوان عباسی ) وزارتِ خارجہ کی قونصلر سروسز کے تحت اپوسٹل سروسز کے لیے کوریئر کمپنیوں کے انتخاب کے عمل پر آڈٹ نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق خدمات کے حصول میں پبلک پروکیورمنٹ رولز (پیپرا) کے تقاضوں پر مکمل عمل نہیں کیا گیا اور اوپن ٹینڈرنگ کے شواہد بھی ریکارڈ پر موجود نہیں ہیں۔ روزنامہ اوصاف کو حاصل دستاویزات کے مطابق 17 مئی 2024 سے اپوسٹل سروسز کے لیے ٹی سی ایس، لیوپرڈز، جیرینز، ایم اینڈ پی اور ایکسیلنٹ کوریئر سروسز (ECS) سمیت پانچ کوریئر کمپنیوں کو دستاویزات کی وصولی اور ترسیل کی ذمہ داری سونپی گئی۔ تاہم آڈٹ کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کے انتخاب کے لیے نہ تو اوپن کمپیٹیٹیو بڈنگ کی گئی اور نہ ہی واضح سلیکشن کرائٹیریا یا کاروباری اہلیت کا مکمل ریکارڈ دستیاب تھا۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہی طریقہ کار صرف اسلام آباد ہی نہیں بلکہ کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں قائم فارن آفس لیزن دفاتر (FALOs) میں بھی اختیار کیا گیا۔
رپورٹ میں ای سی ایس یعنی ایکسیلینٹ کورئیر سروسز کے انتخاب پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ آڈٹ کے مطابق ای سی ایس کمپنی کے قومی سطح پر متعلقہ تجربے، کاروباری پروفائل اور اہلیت سے متعلق مطلوبہ ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔ اس کے علاوہ کمپنی کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) سے متعلق دستاویزات بھی ریکارڈ پر موجود نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ پورے معاملے کی جامع تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور آئندہ سرکاری خریداری اور خدمات کے حصول میں پیپرا رولز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔وزارتِ خارجہ کی جانب سے آڈٹ رپورٹ میں اٹھائے گئے نکات پر تاحال باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔