مسافروں کو جہاز میں ہمیشہ بائیں جانب سے کیوں چڑھایا جاتا ہے؟ 5 دلچسپ وجوہات
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ آپ کسی بھی ایئرلائن سے سفر کریں، مسافروں کو ہمیشہ جہاز کے بائیں دروازے سے ہی سوار کرایا جاتا ہے؟
دنیا بھر کی تقریباً تمام ایئرلائنز میں یہ ایک مستقل اصول ہے کہ جہاز پر سوار ہونے کا راستہ ہمیشہ بائیں جانب سے ہوتا ہے، دایاں حصہ مسافروں کے لیے کبھی استعمال نہیں ہوتا ہے۔
لیکن آخر ایسا کیوں ہے؟ یہ صرف روایت نہیں بلکہ اس کے پیچھے کئی دلچسپ اور سائنسی وجوہات پوشیدہ ہیں، جو ہوائی سفر کو محفوظ اور مؤثر بناتی ہیں۔ آئیے جانتے ہیں وہ 5 وجوہات جنہوں نے اس اصول کو عالمی معیار بنا دیا۔
بحری روایات سے متاثر اصول
ابتدائی ہوابازی کے دور میں پائلٹوں نے بہت سے اصول سمندری جہازوں سے اپنائے تھے۔ ان جہازوں میں مسافروں کو سوار ہونے کا راستہ ہمیشہ بائیں طرف ہوتا تھا اور یہی روایت بعد میں ہوائی جہازوں میں منتقل ہوئی۔ اس سے پائلٹوں اور عملے کے لیے ایک مانوس اور منظم نظام برقرار رہا۔
حفاظتی نکتہ نظر
جہاز کے دائیں جانب زیادہ تر فیول ٹینک، کارگو دروازے اور تکنیکی آلات نصب ہوتے ہیں۔ بائیں جانب سے سوار ہونے سے مسافروں کو ان حساس حصوں سے دور رکھا جاتا ہے، جس سے کسی بھی ممکنہ حادثے یا خطرے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
گراؤنڈ آپریشنز میں سہولت
جب دنیا بھر میں ایک ہی جانب سے بورڈنگ کا اصول طے کر دیا گیا تو ایئرپورٹ عملے کے لیے کام آسان ہو گیا۔
سامان لوڈ کرنا، ایندھن بھروانا اور دیکھ بھال کے کام ایک ہی جانب کیے جاتے ہیں، جبکہ مسافر دوسری جانب سے داخل ہوتے ہیں۔ اس سے وقت کی بچت اور کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
پائلٹ سے تعاون اور ہم آہنگی
جہازوں کے ابتدائی زمانے میں پائلٹ ہمیشہ کاک پٹ کے بائیں طرف بیٹھتے تھے۔ لہٰذا بائیں جانب سے بورڈنگ ہونے سے پائلٹ آسانی سے مسافروں کی آمد و رفت پر نظر رکھ سکتے تھے۔ آج بھی یہی ترتیب عملے کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔
روایت اور بین الاقوامی معیاری نظام
جب ایک اصول عالمی سطح پر اپنایا گیا تو اسے تبدیل کرنا غیر ضروری سمجھا گیا۔ اب یہ طریقہ کار ایئرلائنز، گراؤنڈ اسٹاف اور مسافروں کے لیے ایک معیاری نظام بن چکا ہے۔
اس روایت کو برقرار رکھنا سیکیورٹی اور کارکردگی دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مسافروں کو کے لیے
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔