چوتھی مرتبہ علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
—فائل فوٹو
انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کی غیرحاضری پر ان کے1 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم دیتے ہوئے چوتھی مرتبہ ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔
جج امجد علی شاہ نے علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے کی سماعت کی۔
علیمہ خان ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوئیں جبکہ مقدمے میں نامزد دیگر 10 ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے علیمہ خان کے ضامن عمر شریف کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 24 اکتوبر تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔
بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی) کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہاہے کہ روز ہمارے وارنٹ گرفتاری نکل رہے ہیں۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے علیمہ خان کو دو نئے شورٹی بانڈز اور دس دس لاکھ کے دو ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے احکامات جاری کرتے ہوئے ایس پی راول محمد سعد اور ڈی ایس پی نعیم کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔
عدالت نے دونوں پولیس افسران کی جانب سے علیمہ خان کے روپوش ہونے کی رپورٹ کو بوگس قرار دیتے ہوئے دونوں پولیس افسران کو 24 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
عدالت کی جانب سے سوال کیا گیا کہ علیمہ خان روپوش ہیں تو اڈیالہ جیل کے باہر ان کی میڈیا ٹاک کیسے نشر ہوتی ہیں۔
عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 24 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
عدالت نے مقدمے میں شامل چار گاڑیوں کے 85 لاکھ روپے کے شورٹی بانڈز بھی کاری سرکار ضبط کر لیے۔ گاڑیوں کے مالکان نے اے ٹی سی راولپنڈی سے سپرداری حاصل کر رکھی تھی۔
عدالت نے آئی جی کے پی اور آئی جی بلوچستان کو گاڑیاں ضبط کر کے عدالت پیش کرنے کا حکم دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وارنٹ گرفتاری علیمہ خان عدالت نے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔