اہم حکومتی وزیر کی عمران خان کو بنی گالہ منتقل کرنے کی پیشکش WhatsAppFacebookTwitter 0 23 October, 2025 سب نیوز

اسلام آباد:ایک اہم حکومتی وزیر نے پیشکش کی ہے کہ اگر پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) تحریری درخواست دے تو پارٹی کے بانی عمران خان کو ان کی بنی گالا رہائش گاہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اس پیشکش کے جواب میں پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ اگر حکومت اس معاملے پر اپنی ’سنجیدگی‘ ظاہر کرے تو اس پیشکش پر غور کیا جا سکتا ہے۔
نجی ٹی وی چینل میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے تجویز دی کہ عمران خان کو بنی گالا منتقل کیا جا سکتا ہے، جہاں پی ٹی آئی رہنما اور ان کے اہلِ خانہ روزانہ ان سے ملاقات کر سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’ اگر وہ درخواست دیں تو ہم انہیں منتقل کرنے کے لیے تیار ہیں، وہاں (بنی گالا) پی ٹی آئی رہنما ان سے مل سکتے ہیں، حتیٰ کہ لُڈو اور دیگر کھیل بھی کھیل سکتے ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو رہا تو نہیں کیا جا سکتا، لیکن ان کی بنی گالا رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے کر انہیں وہاں منتقل کیا جا سکتا ہے، پی ٹی آئی کو چاہیے کہ وہ اڈیالہ سے بنی گالا منتقلی کی تحریری درخواست دے، ہم یہ منتقلی کر دیں گے۔
پی ٹی آئی کا ردعمل
اس حوالے سے ردعمل جاننے پر پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بتایا کہ اگرچہ انہیں اس پیشکش کا علم نہیں، تاہم اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ حکومت اس سے پیچھے ہٹ جائے گی، لیکن اگر وہ سنجیدہ ہے تو ہم پارٹی، اپنی قانونی ٹیم اور عمران خان سے مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے، اگر خان صاحب اجازت دیں تو ہم تحریری درخواست ضرور جمع کرائیں گے‘۔

ایک سوال کے جواب میں اسد قیصر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو 2 سال سے زائد عرصہ جیل میں ہو چکا ہے اور قانونی طور پر وہ ضمانت کے حق دار بن چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ ’اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو عدلیہ پر سے دباؤ ہٹائے اور ضمانت کی منظوری ہونے دے‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ خیرسگالی کے طور پر پی ٹی آئی رہنماؤں اور اہلِ خانہ کو جیل میں عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے تاکہ معاملہ آگے بڑھ سکے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جنوری 2024 میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ کیس میں 14 سال قید کی سزا کے بعد خود کو احتساب عدالت کے حوالے کیا تھا، بعد ازاں انہیں اپنے شوہر کی بنی گالا رہائش گاہ منتقل کر دیا گیا تھا جسے سب جیل قرار دیا گیا۔

تاہم، بشریٰ بی بی نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں وہاں زہر دیا جا رہا ہے، اس کے بعد انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جس نے مئی 2024 میں ان کی دوبارہ اڈیالہ جیل منتقلی کا حکم دیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرصنعتی بجلی اور گیس کنکشنز کی تبدیلی کیلئے نیا طریقہ کارمتعارف صنعتی بجلی اور گیس کنکشنز کی تبدیلی کیلئے نیا طریقہ کارمتعارف امریکا کا روس کی دو بڑی آئل کمپنیوں پر پابندیاں لگانے کا اعلان اسرائیلی پارلیمنٹ نے مقبوضہ مغربی کنارے کو ضم کرنے کی منظوری دے دی لاہور آج بھی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر آگیا وزیرِ اعظم سے خیبر پختونخوا کے ارکان پارلیمنٹ اور سیاسی قیادت کی ملاقات وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کرلیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: عمران خان کو

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ