طالبان کا چترال سے نکلنے والے دریائے کنڑ پر ڈیم بنانے کا متنازع فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
طالبان کا چترال سے نکلنے والے دریائے کنڑ پر ڈیم بنانے کا متنازع فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 24 October, 2025 سب نیوز
کابل (آئی پی ایس )افغانستان کی طالبان حکومت نے پاکستان کے علاقے چترال سے آنے والے دریائے کنڑ کے کابل میں دریا سے ملنے کے مقام پر ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے جہاں سے دریا واپس پاکستان آتا ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق طالبان کی وزارت برائے پانی و توانائی نے بتایا ہے کہ اس منصوبے کا تخمینہ اور ڈیزائن تیار ہے بس فنڈنگ ملنے کا انتظار ہے جس کے بعد تعمیر کا آغاز ہوجائے گا۔طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہبتہ اللہ اخوندزادہ نے ڈیم کی تعمیر میں تیزی لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں غیر ملکی کمپنیوں کا انتظار کرنے کے بجائے ملکی کمپنیوں سے استفادہ کریں۔یہ دریا پاکستان کے خوبصورت ترین علاقے چترال سے نکلتا ہے اور سیکڑوں کلو میٹر فاصلہ طے کرکے افغستان پہن کر دریائے کابل سے مل جاتا ہے اور پھر واپس پاکستان آتا ہے۔
افغان حکومت نے کابل میں اس ہی مقام پر ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے جہاں دریائے کنڑ ملتا ہے اور پھر واپسی پاکستان کے لیے راہ لیتا ہے۔ اس مقام پر ڈیم بنانے کا مطلب پانی کو افغانستان کے لیے ذخیرہ کرنا ہے۔طالبان حکومت متعدد بار ارادہ ظاہر کرچکی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی ضرورت کے لیے پانی کو ذخیرہ کرنے کا حق رکھتی ہے اور اس کے لیے جو ضروری اقدام اٹھانے پڑیں، اٹھائیں گے۔ابھی یہ واضح نہیں کہ طالبان حکومت نے ڈیم بنانے سے قبل پاکستان سے رجوع کیا تھا نہیں اور یہ کہ کیا دونوں ممالک کے درمیان اس حوالے سے کوئی معاہدہ موجود ہے۔پاکستان کا ہمیشہ سے اصولی موقف رہا ہے کہ دریائے کنڑ سمیت تمام آبی وسائل سے متعلق عالمی قوانین کی پاسداری کرتے رہیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحکومت کی مہنگائی پر قابو پانے کیلئے سفارشات پر موثر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت حکومت کی مہنگائی پر قابو پانے کیلئے سفارشات پر موثر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت پاکستانی عوام نے بھارت سے بہہ کر آئے 300 جانور امانت قرار دے کر واپس کردیے ماورائے عدالت قتل آئین اور بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جسٹس اطہر من اللہ حکومت مذہبی جماعتوں کیخلاف نہیں، ٹی ایل پی سیاست نہیں انتشار پھیلا رہی تھی، عظمی بخاری جنہوں نے ظلم و جبر کیا ہے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے، وزیراعلی خیبرپختونخوا سیکیورٹی فورسز کا ٹانک میں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن ، 8خوارج ہلاکCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پر ڈیم بنانے کا دریائے کنڑ چترال سے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔