عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر WhatsAppFacebookTwitter 0 25 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست 4 نومبر سماعت کے لیے مقرر کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس سے کاز لسٹ جاری کردی گئی ہے جس کے مطابق جسٹس ارباب محمد طاہر 4 نومبر کو بانی پی ٹی آئی کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کے حوالے سے درخواست پر سماعت کریں گے۔
درخواست گزار شہری غلام مرتضیٰ نے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ کے ذریعے درخواست دائر کر رکھی ہے جس میں دوران قید ’ایکس‘ اکاؤنٹ سے مبینہ انتشاری پوسٹس ہٹانے اور پھیلانے سے روکنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کی غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی ٹوئٹس ہٹانے اور بلاک کرنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر رکھا ہے جب کہ عدالت نے نیشنل سائبر کرائم ایجنسی، سپرنٹنڈنٹ جیل سمیت دیگر فریقین سے بھی جواب طلب کر رکھا ہے۔
یکم اکتوبر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے 21 نکاتی سوال نامہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حوالے کیا گیا تھا، ان سے تفتیش سوال نامے کے تحریری جواب کی روشنی میں کی جانی ہے۔
این سی سی آئی اے کی تفتیشی ٹیم 2 مرتبہ عمران خان سے ملاقات کرچکی ہے، تاہم بانی پی ٹی آئی نے جیل میں این سی سی آئی اے کی ٹیم سے تعاون نہیں کیا۔
این سی سی آئی اے نے سوال کیا ہے کہ جیل میں ہونے کے باوجود آپ کا ایکس اکاؤنٹ فعال کیسے ہے؟
ایک اور سوال میں استفسار کیا گیا ہے کہ آپ کا ایکس (ٹویٹر) کہاں سے اور کون آپریٹ کرتا ہے؟ کیا ذاتی ایکس اکاؤنٹ سے ہونے والی پوسٹس تسلیم کرتے ہیں؟
ایک سوال میں پوچھا گیا ہے کہ کیا ملک مخالف ٹوئٹس آپ کی مرضی سے پوسٹ کی جاتی ہیں؟
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپی آئی اے کی پانچ سال بعد برطانیہ کیلئے پروازیں بحال، پہلی فلائٹ مانچسٹر روانہ پی آئی اے کی پانچ سال بعد برطانیہ کیلئے پروازیں بحال، پہلی فلائٹ مانچسٹر روانہ پاکستان نے دہشتگردی اور خوارج کے خلاف مؤثر اقدامات کیے: ڈی جی آئی ایس پی آر اسامہ بن لادن عورت کا بھیس بدل کر افغانستان سے پاکستان پہنچا،سابق سی آئی اے افسر کا انکشاف مریم نواز کی سکیورٹی ٹیم کی اسکریننگ شروع، مذہبی جماعت سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں پر نظر مصر میں جلا وطن کیے گئے فلسطینیوں کی آبادکاری کیلئے پاکستان بھی آپشن میں شامل پاک-افغان مذاکرات کا دوسرا دور آج استنبول میں ہوگاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اکاو نٹ بند کرنے کا ایکس اکاو نٹ کرنے کی
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔