نوجوان عرفان کی موت ہارٹ اٹیک سے ہوئی، جسم پر تشدد کے نشانات نہیں، ابتدائی تفتیش میں دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن ) اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) کی حراست میں مبینہ تشدد سے نوجوان کی ہلاکت کے کیس میں پیشرفت سامنے آئی ہے۔
ایس آئی یو حکام کے مطابق پولیس کو ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ نوجوان عرفان کی موت ہارٹ اٹیک سے ہوئی اور اس کے جسم پر تشدد کے نشان موجود نہیں تھے۔
ایس آئی یو حکام نے بتایا کہ عرفان کو حساس مقامات کی تصویریں بنانے پر حراست میں لیاگیا تھا جس کے ساتھ اس کے تین ساتھیوں کو بھی پکڑا گیا، باقی تین افراد سے تفتیش اور ان کا میڈیکل مکمل ہونےکے بعد رہا کیا گیا۔
پی ڈی ایم اے نے سیلاب سے متاثرہ 27 اضلاع کی 72 تحصیلوں کو موضع جات کے لحاظ سے آفت زدہ قرار دیدیا
حکام کا کہنا ہے کہ کئی گھنٹے اسپتال میں لاش موجود ہونےکی وجہ سے اس پر نشانات پڑے تاہم پولیس کی کوئی غفلت ثابت ہوئی تو مقدمہ درج کیاجائےگا۔حکام نے مزید بتایا کہ عرفان کا پوسٹ مارٹم مجسٹریٹ کی موجودگی میں کروایاگیا اور پوسٹ مارٹم کی مکمل رپورٹ آنے پر تفصیلات سامنےآئیں گیں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
— فائل فوٹواسکردو میں کچورا جھیل میں سیاح گر کر جاں بحق ہو گیا۔
پولیس کے مطابق مرنے والے شخص کی لاش جھیل سے نکال لی گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سیلفی بناتے ہوئے جھیل میں گرنے والے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان جھیل میں جا گرا۔