کراچی: پولیس کے زیر حراست نوجوان کی ہلاکت، ایس آئی یو حکام کا بیان بھی سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
’جیو نیوز‘ گریب
ایس آئی یو پولیس کی حراست میں نوجوان کی ہلاکت کے واقعے پر حکام کا کہنا ہے کہ عرفان کو حساس مقامات کی تصاویر بنانے پر حراست میں لیا گیا، عرفان کے ساتھ اس کے 3 ساتھی بھی حراست میں لیے تھے۔
ایس آئی یو حکام نے کہا کہ باقی تین افراد کو تفتیش اور میڈیکل مکمل ہونے کے بعد رہا کیا گیا، پولیس کو ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا کہ عرفان کی موت ہارٹ اٹیک سے ہوئی ہے، اس کے جسم پر تشدد کے نشان موجود نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ کئی گھنٹے اسپتال میں لاش موجود ہونے کی وجہ سے نشانات پڑے، عرفان کا پوسٹ مارٹم مجسٹریٹ کی موجودگی میں کروایا گیا ہے، پوسٹ مارٹم کی مکمل رپورٹ آنے پر تفصیلات سامنےآئیں گی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اگر پولیس کی کوئی غفلت ثابت ہوئی تو مقدمہ درج کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) کی حراست میں مبینہ تشدد سے 14 سالہ عرفان نامی نوجوان دم توڑ گیا تھا۔
عرفان کے رشتے دار اظہر ضیاء کے مطابق عرفان کو اس کے دیگر 3 رشتے داروں کے ہمراہ بدھ کی صبح عائشہ منزل سے حراست میں لیا گیا تھا، عرفان احمد پور شرقیہ کا رہائشی تھا اور وہاں پر آنے والے سیلاب کے باعث وہ کراچی میں محنت مزدوری کرنے آیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ حراست میں لیے جانے کے بعد چاروں لڑکوں کے موبائل فون بند کر دیے گئے، اہلِ خانہ مختلف مقامات پر انہیں ڈھونڈتے رہے، جمعرات کی شام کو عرفان کے چچا کو فون کر کے ایس آئی یو کے دفتر بلا کر عرفان کی موت کے بارے میں بتایا گیا۔
اظہر ضیاء کے مطابق بدھ کو ناشتہ کرنے کے بعد عرفان دوستوں کے ساتھ ٹک ٹاک ویڈیو بنا رہا تھا کہ ایس آئی یو اہلکاروں نے مشکوک سمجھ کر انہیں حراست میں لیا، انہیں موبائل میں بٹھا کر گھماتے رہے اور ان پر بیہیمانہ تشدد کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایس ا ئی یو
پڑھیں:
کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
فائل فوٹوکراچی میں جیکسن کے علاقے میں بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ اسد رضا کے مطابق 6 سالہ بچی کی لاش آج دوپہر کو جیکسن کے علاقے سے ملی تھی، ملزم کی گرفتاری کے لیے جیسے ہی پولیس پہنچی، اُس نے پولیس پر فائرنگ کردی۔
ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ملزم ہلاک ہوگیا، جس کے پاس سے اسلحہ برآمد ہوا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کل دوپہر کو لاپتا ہوئی تھی، آج اس کی لاش ملی، ابتدائی پوسٹ مارٹم میں بھی بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی تھی۔