لاہور:17 سالہ ذہنی معذور لڑکی سےدرندہ صفت رشتےدار کی متعدد بار جنسی زیادتی، لڑکی 7ماہ کی حاملہ نکلی
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
لاہور کے علاقے مانوالہ میں 17 سالہ ذہنی معذور لڑکی سے درندہ صفت رشتے دار شخص نے متعدد بار جنسی زیادتی کی جس کے باعث متاثرہ لڑکی حاملہ ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر حنا پرویز بٹ نے متاثرہ لڑکی کے گھر کا دورہ کیا، متاثرہ لڑکی، اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور وزیراعلیٰ کا پیغام پہنچایا۔
متاثرہ لڑکی کی والدہ نے بتایا کہ چیک اپ کروانے پر حمل کی تصدیق ہوئی، جس پر لڑکی نے بتایا کہ ملزم ایاز نے متعدد بار زیادتی کی۔
پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم ایاز کو گرفتار کر لیا، حنا پرویز بٹ نے کہا کہ متاثرہ خاندان کو قانونی، طبی اور نفسیاتی مدد فراہم کی جا رہی ہے، ایسے درندہ صفت رشتہ دار انسان کہلانے کے لائق نہیں، ذہنی معذور لڑکی کے ساتھ ظلم انسانیت کے خلاف جرم ہے۔
حنا پرویز بٹ نے کہا کہ میں خود اس کیس کی نگرانی کر رہی ہوں، انصاف ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، ملزم کو عبرتناک انجام تک پہنچایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: متاثرہ لڑکی
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔