غیر قانونی امیگریشن میں ملوث مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی نے کہا ہے کہ غیر قانونی امیگریشن پاکستان کے لیے ایک نہایت حساس معاملہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انسانی اسمگلنگ روکنے اور امیگریشن آسان بنانے کے لیے ایف آئی اے نے اہم فیصلہ کرلیا
وزارت داخلہ اسلام آباد میں پولینڈ کے نائب وزیر داخلہ نے محسن نقوی سے ملاقات کی، جس میں وزیر مملکت طلال چوہدری اور پولینڈ میں پاکستان کے سفیر محمد سمیع بھی موجود تھے۔
ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزرائے داخلہ نے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے حکومتی سطح پر رابطوں میں اضافہ کرنے پر اتفاق کیا۔
اس موقع پر غیر قانونی امیگریشن، سرحدی تحفظ (بارڈر سیکیورٹی) اور قانونی معاونت (میوچل لیگل اسسٹنٹس) سمیت دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی امیگریشن: درخواست گزاروں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی سخت جانچ ہوگی، ٹرمپ انتظامیہ
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ غیر قانونی امیگریشن میں ملوث مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور سمندری حدود کو محفوظ بنانے کے لیے کوسٹ گارڈز کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پولینڈ وزیر داخلہ غیرقانونی امیگریشن محسن نقوی وزیر داخلہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پولینڈ وزیر داخلہ غیرقانونی امیگریشن محسن نقوی وزیر داخلہ وی نیوز غیر قانونی امیگریشن وزیر داخلہ محسن نقوی کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔