راولپنڈی:

پولیس کی منشیات کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران 8 منشیات سپلائرز کو گرفتار کیا گیا اور ان کے قبضے سے مجموعی طور پر 11.5 کلوگرام سے زائد منشیات برآمد کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق مختلف تھانوں کی پولیس ٹیموں نے علیحدہ علیحدہ چھاپے مار کر یہ کارروائیاں انجام دی ہیں۔

بنی پولیس نے دو سپلائرز کو حراست میں لے کر 2 کلو 875 گرام چرس برآمد کی، واہ کینٹ پولیس نے ایک سپلائر کو گرفتار کر کے 1 کلو 740 گرام چرس برآمد کی۔

وارث خان پولیس نے ایک سپلائر کو حراست میں لے کر 1 کلو 740 گرام چرس برآمد کی جبکہ روات پولیس نے ایک سپلائر کو گرفتار کر کے 1 کلو 610 گرام چرس برآمد کی۔

صدر بیرونی پولیس نے ایک سپلائر کو گرفتار کر کے 1 کلو 600 گرام چرس برآمد کی، مندرہ پولیس نے ایک سپلائر کو حراست میں لے کر 1 کلو 560 گرام چرس برآمد کی اور صدر واہ پولیس نے ایک سپلائر کو گرفتار کر کے 560 گرام آئس برآمد کی۔

راولپنڈی پولیس نے بتایا کہ یہ کارروائیاں شہر میں منشیات کے ناسور کے خاتمے اور نوجوانوں کو منشیات سے محفوظ رکھنے کے لیے جاری ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اور ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا رہی ہے۔

راولپنڈی پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات فروشی یا استعمال کی کسی بھی اطلاع فوری طور پر متعلقہ تھانے یا ہیلپ لائن پر دیں تاکہ مزید کارروائیاں کی جا سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: گرام چرس برآمد کی

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار