مودی سرکار کا اڈانی گروپ کو 3.9 ارب ڈالر کی خفیہ سرکاری امداد کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت پر ایک بڑا مالیاتی اسکینڈل سامنے آگیا ہے، جس میں انکشاف ہوا ہے کہ ارب پتی صنعت کار گوتم اڈانی کے گروپ کو خفیہ طور پر 3.9 ارب ڈالر کی خطیر رقم فراہم کی گئی، جو سرکاری انشورنس کارپوریشن کے ذریعے منتقل ہوئی۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق مودی حکومت کے بااثر سرکاری افسران نے اس پورے منصوبے کی براہِ راست نگرانی کی اور اڈانی گروپ کو سہارا دینے کے لیے حکومتی سطح پر خصوصی انتظامات کیے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد اڈانی گروپ کی گرتی ہوئی مارکیٹ ساکھ کو بحال کرنا تھا، جو گزشتہ برس امریکی تحقیقات کے بعد شدید دباؤ میں آ گیا تھا۔
مزید انکشاف ہوا ہے کہ فنڈز کی منتقلی کے دوران متعدد سرکاری مالیاتی اداروں پر دباؤ ڈال کر اڈانی گروپ کے منصوبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے پر مجبور کیا گیا۔
واضح رہے کہ گوتم اڈانی جو بھارت کے دوسرے امیر ترین شخص ہیں، پر گزشتہ برس رشوت، منی لانڈرنگ اور مالی فراڈ کے سنگین الزامات لگے تھے۔ ان الزامات کے بعد مغربی بینکوں اور مالیاتی اداروں نے اڈانی گروپ کو قرض دینے سے انکار کر دیا تھا، جس کے باعث کمپنی کو شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اڈانی گروپ گروپ کو
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔