روس نے نئے جوہری کروز میزائل کی کامیاب آزمائش کی
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
روس نے نئے لانگ رینج جوہری کروز میزائل بوریویسٹنک کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔
روسی فوج کے سربراہ جنرل ویلری گراسموف نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ آزمائش 21 اکتوبر کو کی گئی۔ جنرل گراسموف کے مطابق، یہ میزائل تقریباً 14 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے تقریباً 15 گھنٹے فضا میں رہا اور کسی بھی اینٹی میزائل ڈیفنس سسٹم کو ناکام بنا کر اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
صدر پیوٹن نے اس موقع پر کہا کہ یہ ایک منفرد ہتھیار ہے اور اس وقت دنیا کے کسی بھی ملک کے پاس ایسا ہتھیار موجود نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اہم جوہری کروز میزائل کے ٹیسٹ مکمل ہو چکے ہیں اور اب میزائلوں کی تعیناتی سے پہلے آخری مرحلے پر کام شروع ہونا چاہیے۔
یہ بوریویسٹنک میزائل روس کے جدید ہتھیاروں کے پروگرام ایس ایس سی ایکس 9 اسکائی فال کا حصہ ہے، جو روس کی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بناتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا