خیبرپختونخوا؛ دفعہ 144 کے تحت متعدد اضلاع میں کان کنی پر پابندی میں توسیع
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
پشاور:
خیبر پختونخوا کی حکومت نے صوابی اور نوشہرہ سمیت متعدد اضلاع میں دفعہ 144 کے تحت سونے کی غیرقانونی کان کنی سمیت سرگرمیوں پر پابندی میں توسیع کردی۔
خیبرپختونخوا محکمہ داخلہ وقبائلی امور نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت ضلع صوابی، نوشہرہ، کوہاٹ اور ملحقہ علاقوں میں دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کناروں پر سونے کی غیر قانونی کان کنی کی تمام سرگرمیوں پر عائد پابندی میں توسیع کر دی ہے۔
صوبائی حکومت کے محکمہ داخلہ نے بتایا کہ یہ حکم فوری طورپر نافذالعمل ہو کر 30 دن تک لاگو رہے گا اور خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
صوبائی حکومت نے بتایا کہ یہ اقدام ماحول کو ممکنہ طور پر پہنچنے والے نقصان، آبی وسائل کے آلود ہ ہونے اور غیر مجاز کان کنی کی سرگرمیوں سے وابستہ امن و امان کے مسائل کے حوالے سے درپیش خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔