خیبرپختونخوا: دفعہ 144 کے تحت سونے کی غیرقانونی کان کنی سمیت دیگرسرگرمیوں پر پابندی میں توسیع
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ ( مانیٹر نگ ڈ یسک )خیبر پختونخوا کی حکومت نے صوابی اور نوشہرہ سمیت متعدد اضلاع میں دفعہ 144 کے تحت سونے کی غیرقانونی کان کنی سمیت سرگرمیوں پر پابندی میں توسیع کردی۔ خیبر پختونخوا محکمہ داخلہ وقبائلی امور نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت ضلع صوابی، نوشہرہ، کوہاٹ اور ملحقہ علاقوں میں دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کناروں پر سونے کی غیر قانونی کان کنی کی تمام سرگرمیوں پر عائد پابندی میں توسیع کر دی ہے۔صوبائی حکومت کے محکمہ داخلہ نے بتایا کہ یہ حکم فوری طورپر نافذالعمل ہو کر 30 دن تک لاگو رہے گا اور خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188کے تحت کارروائی کی جائے گی۔صوبائی حکومت نے بتایا کہ یہ اقدام ماحول کو ممکنہ طور پر پہنچنے والے نقصان، آبی وسائل کے آلود ہ ہونے اور غیر مجاز کان کنی کی سرگرمیوں سے وابستہ امن و امان کے مسائل کے حوالے سے درپیش خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔