کشمیر اسمبلی اراکین نے متفقہ طور معراج ملک پر عائد پی ایس اے کو منسوخ کرنیکا مطالبہ کیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کسی عسکری یا ریاست مخالف سرگرمی میں ملوث ہوتا تو ہم کبھی اسکے حق میں نہ بولتے، مگر کیا کسی ڈپٹی کمشنر کو یہ اختیار ہے کہ وہ کسی کو بھی جیل بھیج دے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر اسمبلی میں ایک غیر معمولی واقعہ اس وقت پیش آیا جب عام آدمی پارٹی کے رکنِ اسمبلی معراج ملک کی گرفتاری نے حکمرام جماعت اور غیر بی جے پی اراکین کو ایک پلیٹ فارم پر لا کھڑا کیا۔ ایوان میں تمام اراکین نے متفقہ طور پر ایم ایل اے ڈوڈہ پر عائد پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ معراج ملک صوبہ جموں کے ضلع ڈوڈہ سے منتخب رکن اسمبلی ہے، انہیں ستمبر میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے "پی ایس اے" کے تحت گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا، وہ اس وقت کٹھوعہ جیل میں قید ہے۔ زیرو آور کے دوران جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی سجاد شاہین نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے ایوان میں ایک گھنٹے کی بحث کا مطالبہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک منتخب عوامی نمائندے کو پی ایس اے کے تحت گرفتار کرنا خطرناک مثال اور رجحان قائم کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج ملک گرفتار ہے، تو کل کوئی اور بھی ہوسکتا ہے۔ نیشنل کانفرنس کے ہی ایک اور رکن نذیر احمد خان (المعروف گریزی) نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کی چھان بین کے لئے اسمبلی کی سطح پر ایک اعلٰی اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کسی عسکری یا ریاست مخالف سرگرمی میں ملوث ہوتا تو ہم کبھی اس کے حق میں نہ بولتے، مگر کیا کسی ڈپٹی کمشنر کو یہ اختیار ہے کہ وہ کسی کو بھی جیل بھیج دے۔
جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے سربراہ اور ایم ایل اے ہندوارہ سجاد لون نے معراج ملک کی گرفتاری کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کالے قانون کا غلط استعمال ہر حکومت نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے راجیہ سبھا انتخابات کے دوران معراج ملک پر غلط الزامات لگائے تھے، انہیں اب معافی مانگنی چاہیئے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین، جن میں وحید پرہ اور رفیق نائیک شامل ہیں، نے بھی معراج ملک کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ تاہم اسپیکر عبد الرحیم راتھر نے سجاد لون کی جانب سے پیش کی گئی التوا کی تحریک مسترد کر دی، جس میں انہوں نے ریاست میں غلط ریزرویشن پالیسی پر بحث کا مطالبہ کیا تھا۔ اسپیکر نے وضاحت دی کہ یہ تحریک صرف حالیہ واقعات پر پیش کی جا سکتی ہے اور حکومت پہلے ہی اس معاملے پر ایک پینل تشکیل دے چکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کا مطالبہ کیا معراج ملک پی ایس اے
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔