قرآن و سنت کے نظام ہی سے عوامی مسائل حل ہوسکتے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251028-05-9
لاہور (وقائع نگارخصوصی)امیر جماعت اسلامی لاہورضیا الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ قرآن و سنت کے نظام ہی سے عوامی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ موجودہ فرسودہ اور بدبودار نظام کے ہوتے ہوئے عوام کے دکھوں کا مداوا ممکن نہیں ہوسکتا۔ جماعت اسلامی ملک میں عدل، انصاف اور میرٹ کی بالادستی کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین کے مظلوم عوام کی جدوجہدِ آزادی میں جماعت اسلامی ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے اور رہے گی۔ ان خطوں کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ جماعت اسلامی عدالتوں میں میرٹ پر فیصلوں اور ہر خاص و عام کے لیے یکساں قانون کے قیام کی جدوجہد کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی ہی وہ واحد سیاسی اور دینی جماعت ہے جس نے عام آدمی کے سلگتے ہوئے مسائل کو ہر فورم پر اجاگر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ا میر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے عوام کے بنیادی مسائل کے حل اور ملک میں عدل و انصاف کے قیام کے لیے اجتماعِ عام کا اعلان کیا ہے، کیونکہ جب تک نظام تبدیل نہیں ہوگا، عوام کے مسائل بھی حل نہیں ہوسکیں گے۔ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے جنوبی لاہور میں اجتماع عام کی تیاریوں کے سلسلے میں منعقدہ ایک بڑے عوامی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ کنونشن میں نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ، نائب امیر جماعت اسلامی لاہور خالد احمد بٹ، سابق ممبر قومی اسمبلی سید احسان اللہ وقاص، امیر جماعت اسلامی جنوبی لاہور مرزا عبدالرشیدسمیت بڑی تعداد میں قائدین، کارکنان اور اہلِ علاقہ نے شرکت کی۔کنونشن میں مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جماعت اسلامی ملک میں اسلامی فلاحی نظامکے قیام، عوامی مسائل کے حل اور کشمیر و فلسطین کے مظلوم عوام کی آزادی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی نے کہا کے لیے
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔