عوام کے حقوق “بدل دو نظام کو”تحریک کا سرفہرست ایجنڈا ہوگا، حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
نوشہرہ ورکاں:۔ امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ کسانوں، مزدوروں اور نوجوانوں کے حقوق مینار پاکستان سے شروع ہونے والی عظیم الشان “بدل دو نظام کو” تحریک کا سرفہرست ایجنڈا ہوگا۔ کسان ساتھ دیں، انگریزوں کی وفاداری سے حاصل کی گئی جاگیروں کو چھوٹے کاشتکاروں میں تقسیم کرنے کے مطالبہ کو پوری قوم کی آواز بنا دیں گے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے 3500 من گندم کی امدادی قیمت مسترد کرتے ہیں، فی من 4500 روپے میں خریدی جائے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ ورکاں، گوجرانوالہ میں “کسان بچائو پاکستان بچائو” روڈ کارواں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاوید قصوری، نائب امیر لاہور ذکراللہ مجاہد، امیر گوجرانوالہ مظہر اقبال رندھاوا اور صدر کسان بورڈ پاکستان سردار ظفر حسین نے بھی کاررواں سے خطاب کیا۔
کسان بورڈ کے زیراہتمام چھوٹے کاشتکاروں کے حقوق کے تحفظ اور زراعت کی بحالی کے لیے مختلف کسان تنظیموں نے پنجاب میں روڈ کارواں نکالے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے شرکاءکو مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرنے پر مبارکباد دی اور کسانوں کو نومبر میں جماعت اسلامی کے تین روز اجتماع عام میں شرکت کی دعوت دی۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ساٹھ فیصد آبادی زراعت سے منسلک لیکن حکمرانوں کی نالائقیوں کی وجہ سے شعبہ تیزی سے زوال کا شکار ہے، زراعت کی شرح نمو ایک سال میں چھ اعشاریہ پانچ فیصد سے اعشاریہ پانچ تک آگئی، حکمران بتائیں یہ کس ترقی کے دعوے کررہے ہیں جب ساٹھ فیصد عوام کی آمدنی کئی گنا کم ہوگئی۔ حکومت پنجاب نے گزشتہ برس امدادی قیمت مقرر کرکے اور کسانوں سے وعدہ کرکے گندم نہیں خریدی، چھوٹے کسان رُل گئے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کسان سے دو ہزار روپے من گندم خریدی گئی اور مارکیٹ میں پانچ ہزار تک فروخت ہوئی، درمیان کی رقم مافیا کھا گیا، یہ مافیا ہر حکمران پارٹی کا حصہ ہے، سیاسی پارٹیاں خاندانوں اور افراد کے نرغے میں ہیں، بڑے جاگیردار ہر حکومت کا حصہ ہوتے ہیں، کھاد بیج کی قیمتیں آسمان پر ہیں اور گندم اور دیگر اجناس مقررہ نرخ پر فروخت نہیں ہوتیں، اس سے جاگیردار کو کوئی فرق نہیں پڑتا، حکومت ان سے ٹیکس بھی نہیں لیتی، انگریز کے دور سے لے کر آج تک پاکستان میں جاگیردارانہ سماج قائم ہے، جس سے عام انسان کا استحصال ہورہا ہے، جو مراعات حکمرانوں کو حاصل ہیں کسان، مزدور کو بھی دی جائیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ عوام جان لیں انہیں مسلط طبقات سے اپنا حق چھین کر لینا پڑے گا، جماعت اسلامی سے مل کر گلیوں کوچوں میں آواز اٹھائیں، ایوانوں کا گھیرائو کریں، ظلم کے اس راج کو بدلنا ہوگا، ملک پر عوامی راج چاہیے، اصل حکمران اللہ کی ذات ہے، جماعت اسلامی نومبر میں اللہ کی مددو نصرت اور عوام کی تائید سے استحصالی نظام کے خلاف پرامن تحریک چلا ئے گی۔
اقتدار میں آکر جماعت اسلامی عدالتی اصلاحات لائے گی۔ زراعت، تعلیم اور صحت سمیت دیگر شعبوں میں بنیادی تبدیلیاں متعارف کرائیں گے۔ عوام سمجھ لیں آزمودہ پارٹیاں ان کے مسائل کا حل نہیں، فارم 47 کی پیداور کو عوام، کسان مزدور سے کوئی غرض نہیں، چہرے نہیں نظام بدلنا ہوگا۔ پاکستان میں امریکی غلاموں، جاگیرداروں کا نہیں، کسان اور عوام راج ہونا چاہیے۔ زراعت اور کسان بچے گا تو ملک آگے بڑھے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل حافظ نعیم الرحمن جماعت اسلامی
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔