وزیراعلیٰ کے پی اپنی مرضی سے کابینہ تشکیل دیں اور حجم محدودرکھیں: عمران خان
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ائی) اور سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن عظمی خان نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کابینہ تشکیل دیں اور اس کا حجم محدود رکھیں۔
داہگل ناکہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی بہن عظمی خان نے بتایا کہ ان کی ملاقات آج عمران خان سے ہوئی جس میں مختلف سیاسی و تنظیمی امور پر بات چیت ہوئی۔
عظمی خان نے بتایا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کابینہ کے ارکان کے نام وزیراعلیٰ خود طے کریں، کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ ٹیم چھوٹی مگر مؤثر ہو۔
عمران خان کی بہن کا کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران بانی پی ٹی آئی کو صوبے میں حالیہ جلسے کے بارے میں آگاہ کیا گیا جس پر عمران خان نے خوشی کا اظہار کیا، جب کارکنوں کی جانب سے لانگ مارچ کے مطالبے کا ذکر کیا گیا تو عمران خان مسکرا دیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت دی ہے کہ ملاقات کی اجازت نہ ملنے کے معاملے پر ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں پٹیشنز دائر کی جائیں اور یہ پیغام سلمان اکرم راجہ تک پہنچا دیا جائے۔
عظمی خان کے مطابق عمران خان نے واضح کیا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے لیے کسی کا نام تجویز نہیں کیا، بلکہ مکمل اختیار وزیراعلیٰ کے پاس ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عمران خان نے سلمان اکرم راجہ کو پیغام دیا کہ مستقبل میں پارٹی کی اہم ہدایات ان کے ذریعے پہنچائی جائیں گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عمران خان نے علامہ راجہ ناصر عباس اور محباللہ خان اچکزئی کی تقرریوں کے نوٹیفکیشن میں تاخیر پر تشویش ظاہر کی، اور سوال اٹھایا کہ احمد چھٹہ اور بلال اعجاز جیسے پرانے ساتھیوں کو کس بنیاد پر عہدوں سے ہٹایا گیا۔
عمران خان نے قانونی ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ توہینِ عدالت کی درخواستیں فوری طور پر فائل کی جائیں اور اس وقت تک ہائیکورٹ سے نہ اٹھا جائے جب تک ان کی سماعت کی تاریخ مقرر نہ ہو۔
ملاقات کے بعد عمران خان کی بہنیں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیے بغیر روانہ ہوگئیں۔
ویب ڈیسک
دانیال عدنان
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ عمران خان نے
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔