عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مسلسل تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، وزیراعلیٰ پختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251213-08-29
پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو ناحق قید اور مسلسل تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔ صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کو قید میں سردیوں کا سامان بھی فراہم نہیں کیا جا رہا، عمران خان کی بہنوں پر واٹر کینن چلانا اور بے عزتی کرنا شرمناک اقدام ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت اس ناروا اور غیر انسانی سلوک کی بھرپور مذمت کرتی ہے، این ایف سی اجلاس میں صوبائی حقوق کے لیے سب کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو خوش آئند ہے، سب کمیٹی کی سربراہی صوبائی مشیر خزانہ کریں گے، واجبات کے حوالے سے سفارشات وفاق کو پیش کی جائیں گی۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے کے حقوق کے لیے تمام سیاسی و قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے، وزیراعلیٰ نے این ایچ پی اور این ایف سی بقایاجات پر محکمہ خزانہ کو ہر ہفتے وفاق کو خط ارسال کرنے کی ہدایت کردی۔ انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع کے لیے سالانہ 100 ارب روپے کا وعدہ کیا گیا تھا، سات سال میں صرف 168 ارب دیے گئے، 532 ارب اب بھی بقایا ہیں، تمام محکمے اپنے بقایاجات کے حوالے سے وفاق کو ہفتہ وار خط ارسال کریں تاکہ ساری چیزیں ریکارڈ پر ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔