زرداری سے ملاقات: آزادکشمیر عدم اعتماد میں پیلزپارٹی کا ساتھ دینگے : لیگی رہنما : کوشش ہے بہتر حکومت بنائیں الیکشن ماحول پیدا کرینگے کا ئرہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
مظفرآباد؍ اسلام آباد (جاوید چوہدری+ نمائندہ خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم چوہدری انوارالحق کی صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو ہوئی۔ کہا اسلام آباد میں بیٹھ کر خود ہی میری پریس کانفرنس بلاتے ہیں اور خود ہی ملتوی کر دیتے ہیں۔ جب تک میرے پاس قلم کا اختیار ہے، میں اپنے فرائض سرانجام دیتا رہوں گا۔ میری قدر میرے جانے کے بعد ہو گی۔ جس گھر میں نے جنم لیا، اپنی خاطر اس کو آگ نہیں لگا سکتا۔ جلد پریس کانفرنس کر وں گا جس میں تفصیلی بات ہو گی۔ میں اپنی کاکردگی پر مطمئن ہوں۔ اللہ نے مجھے کامیاب کیا۔ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ اگر کسی کی نمبر گیم پوری ہے تو عدم اعتماد کیوں نہیں لاتے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر انوار الحق نے استعفیٰ دینے کیلئے مشاورت کا عمل مکمل کر لیا ہے اور آج رات یا کل ان کے مستعفی ہونے کا امکان ہے۔ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر تحریک عدم اعتماد میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دے گی۔ صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کی۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد میں (ن) لیگ آزاد کشمیر ساتھ دے گی لیکن آزاد کشمیر حکومت کا حصہ نہیں ہو گی۔ مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ موجودہ حکومت آزاد کشمیر پر اعتماد نہیں۔ صدر مملکت کو اپنے فیصلوں پر اعتماد میں لیا ہے۔ احسن اقبال نے کہا آزاد کشمیر کا موجودہ سیٹ اپ عوام کی امنگوں پر پورا اترنے میں ناکام رہا۔ مسلم لیگ (ن) اور پی پی میں تحریک عدم اعتماد پر اتفاق ہوا ہے۔ رانا ثناء اللہ نے کہا موجودہ مدت پوری ہونے کے بعد آزاد کشمیر میں فری اینڈ فیئر الیکشن ہوں گے۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ موجودہ آزاد کشمیر حکومت مسائل حل کرنے کی بجائے مسائل پیدا کرنے کا باعث بن گئی۔ مسلم لیگ (ن) کا فیصلہ ہے کہ یہ آزاد کشمیر میں اپوزیشن میں بیٹھیں گے۔ آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام لانا اور مسائل کا حل نکالنا ہے۔ ہم نے مسلم لیگ (ن) اور انہوں نے پی پی کے فیصلے کو مانا ہے۔ ہماری کوشش ہے آزاد کشمیر میں بہتر حکومت تشکیل دیں۔ آزاد کشمیر میں آزادانہ اور دوستانہ انتخابات کا ماحول پیدا کریں گے۔ دریں اثناء آزاد کشمیر میں ان ہاؤس تبدیلی کیلئے پیپلز پارٹی نے حکومت سازی کیلئے مشاورت مکمل کر لی۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو آج وزیراعظم آزاد کشمیر کیلئے نام کا اعلان کریں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے ایک وفد نے جس میں وفاقی زیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وفاقی وزیر بین صوبائی رابطہ رانا ثناء اللہ اور انجینئر امیر مقام شامل تھے نے صدر مملکت سے ملاقات کی۔ ذرائع کا کہنا ہے اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری اور امور کشمیر کے بارے میں پیپلز پارٹی کی کمیٹی کے ارکان راجہ پرویز اشرف اور قمر زمان قائرہ بھی موجود تھے۔ مسلم لیگ (ن) کو حکومت کا حصہ بننے کی باضابطہ دعوت دی۔ ملاقات کے بعد احسن اقبال، امیر مقام، راجہ پرویز اشرف، قمر زمان کائرہ نے میڈیا سے مشترکہ گفتگو کی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے وزیراعظم آزاد کشمیر کے لیے ناموں کی شارٹ لسٹنگ کر لی ہے۔ آزاد کشمیر کے وزیراعظم مستعفی نہ ہوئے تو تحریک عدم اعتماد کے مرحلے کے دوران نام کا اعلان کر دیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی کے پاس موجودہ ووٹ پاور مطلوبہ تعداد سے بڑھ گئی ہے۔ اس وقت آزاد کشمیر اسمبلی میں 33 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: تحریک عدم اعتماد پیپلز پارٹی مسلم لیگ کے بعد نے کہا
پڑھیں:
بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔
گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ
بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔
بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔
ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔
نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔
بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔
چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔
حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔
ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔
تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔
کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔
2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان
دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز