data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251028-08-17

 

اسلام آباد(آن لائن)جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے افغانستان کی صورتحال کو افہام و تفہیم سے حل پر پھر زور دیاہے جبکہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹوزرداری نے یقین دلایا ہے کہ آپ کی افغانستان سے متعلق جو تجاویز اور خدشات ہیں وہ صدر مملکت تک پہنچاؤں گا۔جمعیت علمائے اسلام اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مابین قومی اسمبلی اور سینیٹ سمیت اہم ملکی معاملات پر مشاورت مکمل ہوگئی دونں رہنماؤں کے درمیان آزاد کشمیر میںحکومت سازی پر بھی مشاورت کی گئی۔سوموار کو پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے امیر جے یوآئی مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں رہنمائوں کے درمیان ملکی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ نیر حسین بخاری، ہمایوں خان اور جمیل سومرو جبکہ جے یو آئی کی جانب سے سابق وفاقی وزیر مولانا اسعد محمود، مفتی ابرار اور دیگر شریک ہوئے۔ ملاقات میں سربراہ جے یو آئی اور چیئرمین پیپلز پارٹی کے درمیان آزاد جموں و کشمیر کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے مولانا کو حالیہ صورتحال پر اعتماد میں لیا۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان اور چیئرمین پیپلز پارٹی میں پارلیمانی امور خصوصاً قومی اسمبلی، سینیٹ میں ورکنگ ریلیشن شپ کا بھی تذکرہ کیا گیا۔ مولانا نے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت میں سب سے اہم کردار پارلیمنٹ کا ہے جو ادا نہیں ہورہا ہے اجلاس میں دونوں رہنماؤں کے مابین متوقع قانون سازی سمیت کئی اہم امور پر بھی طویل مشاورت ہوئی۔ اس موقع پر بلاول بھٹو نے کہا کہ آپ کی جانب سے افغانستان سے متعلق جو تجاویز اور خدشات ہیں وہ صدر مملکت تک پہنچاؤں گا۔

خبر ایجنسی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی

پڑھیں:

نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو